’دشمن ہتھیاروں سے مقابلہ کرے گا تو جواب بھی ہتھیاروں سے دیں گے‘

Wait 5 sec.

اسرائیل سے جنگ بندی کے بعد سربراہ حزب اللہ نعیم قاسم  نے مزاحمت جاری رکھنے کے عزم کا اظہار کیا ہے۔انہوں نے کہا کہ حزب اللہ غیرملکی تسلط، قبضے اور سیاسی انحصار کو مسترد کرتی ہے مزاحمت اور مقبوضہ سرزمین کی آزادی ہمارے بنیادی اصول ہیں حزب اللہ نے ہمیشہ لبنان کے آئین اور طائف معاہدے کے دائرے میں کام کیا۔نعیم قاسم نے واضح کیا کہ قابض فوج کے خلاف اٹھایا گیا ہر قدم ہمارے لیے فتح ہے دشمن ہتھیاروں سے مقابلہ کرے گا تو جواب بھی ہتھیاروں سے دیا جائے گا، ہماری جدوجہد ناانصافی اور بیرونی مداخلت کے خلاف ہے۔جنگ بندیبرطانوی خبر رساں ایجنسی روئٹرز نے دعویٰ کیا ہے کہ اسرائیل اور لبنان کی مزاحمتی تنظیم حزب اللہ نے جنگ بندی پر اتفاق کر لیا، سیز فائر آج شام مقامی وقت کے مطابق 4 بجے شروع ہوگی۔روئٹرز کی رپورٹ کے مطابق ایک سینئر امریکی عہدیدار نے بتایا کہ اسرائیل اور حزب اللہ کے درمیان آج مقامی وقت کے مطابق شام 4 بجے سے جنگ بندی پر اتفاق ہوگیا ہے۔ واضح رہے کہ یہ پیشرفت دونوں کے درمیان لبنان میں کشیدگی میں شدید اضافے کے بعد سامنے آئی ہے۔امریکی عہدیدار نے بتایا کہ اسرائیل اور حزب اللہ نے جنگ بندی پر اتفاق کر لیا ہے، امریکا اور قطر کے مذاکرات کاروں نے ایران کی مدد سے اس معاہدے کو حتمی شکل دی ہے، ہم سمجھتے ہیں کہ آج ہونے والی جھڑپوں کے بعد اسرائیل اور حزب اللہ اب جنگ بندی پر عمل کر رہے ہیں۔یہ بھی پڑھیں: حزب اللہ کا مقابلہ کرنے میں ناکامی، نیتن یاہو لبنانی عوام سے مدد مانگنے پر مجبور ہوگئےواضح رہے کہ لبنان میں تشدد کی اس شدت نے مشرق وسطیٰ میں جنگ کے خاتمے کیلیے دستخط کیے گئے امریکا اور ایران عبوری معاہدے کو دباؤ میں ڈال دیا تھا۔حزب اللہ کے ایک قانون ساز نے اس سے قبل رائٹرز کو بتایا تھا کہ ایران نے مزاحمتی تنظیم کو مطلع کیا ہے کہ جامع جنگ بندی کے نفاذ کے بغیر واشنگٹن کے ساتھ بات چیت جاری نہیں رہ سکتی۔