سوئٹزرلینڈ میں ایران امریکا مذاکرات کا پہلا دور کب ہوگا؟

Wait 5 sec.

واشنگٹن (20 جون 2026): سوئٹزرلینڈ میں ایران اور امریکا کے درمیان ممکنہ جوہری مذاکرات کا پہلا دور جلد شروع ہونے کی توقع ہے۔امریکی ویب سائٹ ایکسیوس کی رپورٹ کے مطابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے خصوصی ایلچی اسٹیو وٹکوف مذاکرات کے لیے سوئٹزرلینڈ روانہ ہو گئے، ٹرمپ کے داماد اور مشیر جیرڈ کشنر بھی پہلے ہی وہاں موجود ہیں۔دونوں ممالک کی جانب سے مذاکرات کے باقاعدہ آغاز کی تاریخ کا اعلان نہیں کیا گیا لیکن اس پیش رفت کو رپورٹ میں دونوں ممالک کے درمیان کشیدگی کم کرنے اور سفارتی عمل کو آگے بڑھانے کی کوشش قرار دیا گیا ہے۔مذاکرات جمعہ کو شروع ہونا تھے، تاہم لبنان میں اسرائیل اور حزب اللہ کے درمیان جاری جھڑپوں کے باعث انھیں مؤخر کر دیا گیا۔ تاحال یہ واضح نہیں کہ مذاکرات کے لیے نئی تاریخ طے کی گئی ہے یا نہیں۔آخری لمحات میں امریکا ایران مذاکرات ملتوی ہونے کی وجوہات سامنے آگئیںباخبر ذریعے کے مطابق ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی ہفتے کے روز سوئٹزرلینڈ جانے کا ارادہ رکھتے ہیں، تاہم ذریعے نے کہا کہ اس منصوبے میں اب بھی تبدیلی ممکن ہے۔ایک ثالثی ملک کے ذریعے کے مطابق عباس عراقچی نے جمعہ کو اپنے متعدد ہم منصبوں سے گفتگو میں کہا کہ لبنان میں جنگ بندی ایران کے لیے انتہائی اہم معاملہ ہے اور یہ امریکا ایران مذاکرات کے لیے ’’فیصلہ کن‘‘ ثابت ہو سکتی ہے۔ ایک اور ثالثی ملک کے ذریعے نے بتایا کہ ایرانی حکام نے زور دیا ہے کہ وہ سوئٹزرلینڈ روانگی سے قبل لبنان میں جنگ بندی کے مؤثر طور پر نافذ ہونے کے خواہاں ہیں۔امریکا اور ایران کے درمیان اہم ثالثوں میں شامل قطر کے وزیر اعظم محمد بن عبدالرحمن آل ثانی جمعہ کے روز پہلے ہی سوئٹزرلینڈ پہنچ چکے ہیں۔ امریکی نائب صدر جے ڈی وینس کے امریکی وفد کی قیادت کرنے کی توقع تھی، تاہم انھوں نے جمعرات کی شب آخری وقت میں اپنا دورہ مؤخر کر دیا۔ فی الحال یہ واضح نہیں کہ آیا وہ اس ہفتے کے اختتام پر سوئٹزرلینڈ جائیں گے یا نہیں۔