کابل(19 جون 2026): ترک انٹیلی جنس نے سرحدی علاقے کے قریب ایک بڑی کارروائی کرتے ہوئے افغانستان سے آپریٹ کرنے والے دہشت گرد گروہ داعش خراسان کے میڈیا سربراہ احمد قازانجی کو گرفتار کر لیا ہے۔افغان سرزمین پر موجود داعش کے اتنے بڑے سرغنہ کی گرفتاری نے طالبان رجیم کے ان دعووں کی قلعی کھول دی ہے جس میں وہ افغان سر زمین کسی کے خلاف استعمال نہ ہونے کا دعویٰ کرتے ہیں۔ترک خبر رساں ایجنسی ‘اناطولیہ’ کے مطابق گرفتار میڈیا چیف احمد قازانجی نے دورانِ تفتیش اعتراف کیا ہے کہ وہ دہشت گردوں کی تربیت، پروپیگنڈا پھیلانے، تخریب کاری اور دہشت گردی کے لیے سہولت کاری فراہم کرنے میں ملوث رہا ہے۔اس گرفتاری سے یہ واضح ہو گیا ہے کہ طالبان رجیم کی مبینہ سرپرستی یا کمزوری کے باعث افغانستان عالمی دہشت گردوں کے لیے ایک بار پھر محفوظ پناہ گاہ اور لانچنگ پیڈ بن چکا ہے۔پاکستان اس سے قبل متعدد بار اقوام متحدہ سمیت دیگر عالمی فورمز پر دنیا کو انتباہ جاری کر چکا ہے کہ افغان سرزمین دہشت گردوں کی محفوظ پناہ گاہ بن چکی ہے۔اقوام متحدہ میں پاکستان کے مستقل مندوب عاصم افتخار احمد کے مطابق، داعش خراسان، القاعدہ، فتنہ الخوارج (ٹی ٹی پی) اور فتنہ ہندوستان سمیت متعدد دہشت گرد گروہ اس وقت افغانستان میں آزادانہ طور پر سرگرم ہیں، جو نہ صرف خطے بلکہ پوری دنیا کے امن کے لیے ایک بڑا خطرہ ہیں۔