دہلی ہائی کورٹ نے ٹیلیگرام سے متعلق اپنا اہم فیصلہ سنایا جو کہ اس ادارہ کے حق میں نہیں گیا۔ ہائی کورٹ نے ہندوستانی حکومت کے اس فیصلہ کو برقرار رکھا ہے، جس کے تحت ری-نیٹ امتحان کے پیش نظر ٹیلیگرام پر عارضی پابندی عائد کی گئی ہے۔ ہندوستان میں ری-نیٹ کا امتحان 21 جون کو منعقد ہوگا اور ہائی کورٹ کا کہنا ہے کہ حکومت کے پاس کسی ایپ پر پابندی لگانے کا اختیار موجود ہے۔Delhi High Court dismisses Telegram’s plea challenging the Centre’s temporary ban imposed in view of the NEET re-examination, granting no relief to the messaging platform.Justice Tejas Karia upholds the government’s decision to block Telegram till June 22, rejecting the… pic.twitter.com/8Sk95cFHYN— ANI (@ANI) June 19, 2026ٹیلیگرام پر عارضی پابندی معاملہ میں فیصلہ سناتے ہوئے ہائی کورٹ نے کہا کہ تمام قانونی کارروائیوں کی مکمل طور پر پیروی کی گئی ہے۔ حکم کی ہنگامی نوعیت اور اس کے لیے پیش کی گئی وجوہات کافی ہیں۔ ساتھ ہی ہائی کورٹ نے یہ بھی کہا کہ حکم کی اطلاع نہ دیے جانے کا استدلال قابل قبول نہیں ہے۔ ہائی کورٹ کے مطابق ’’ہم نے پایا ہے کہ مرکزی حکومت نے دستیاب مواد پر باقاعدہ اور مناسب غور کیا تھا۔‘‘ اس طرح عدالت نے ٹیلیگرام ایپ پر عائد 5 روزہ پابندی کو برقرار رکھا ہے۔ٹیلیگرام سے متعلق جاری تنازعہ کے درمیان مرکزی حکومت نے ایک سنسنی خیز دعویٰ بھی کیا ہے۔ حکومت نے عدالت میں کہا کہ ٹیلیگرام دہشت گردانہ سرگرمیوں کے لیے سب سے آسان اور سہولت آمیز پلیٹ فارم بن چکا ہے۔ یعنی ٹیلیگرام کا معاملہ پیپر لیک سے آگے بڑھ کر دہشت گردانہ سرگرمی تک بڑھ گیا ہے۔ جہاں تک پرچہ لیک کا سوال ہے، ٹیلیگرام پر قبل میں کئی مرتبہ اس طرح کے الزامات لگ چکے ہیں۔ پرچہ لیک ہونے اور جعلی پرچوں کی گردش کے الزامات کی وجہ سے ٹیلیگرام اکثر سرخیوں میں رہتا ہے۔ یہاں تک کہ متعدد رپورٹس میں یہ دعویٰ بھی کیا جا چکا ہے کہ دھوکے باز عناصر اور سائبر فراڈ انجام دینے والے افراد بھی اس پلیٹ فارم کا بڑے پیمانے پر استعمال کرتے ہیں۔#Breaking Delhi High Court rejects Telegram's plea challenging the Central government's decision to temporarily ban Telegram before the NEET exams."Government's order is well founded. A platform can be banned under Section 69A of the IT Act," Justice Tejas Karia rules.… pic.twitter.com/fw8oiVVMAN— Bar and Bench (@barandbench) June 19, 2026بہرحال، سالیسٹر جنرل تشار مہتا نے عدالت کو بتایا کہ ٹیلیگرام کے نمائندوں کو طلب کیا گیا تھا اور ان کا مؤقف سنا گیا تھا۔ ان کے دلائل اور ان پر کی گئی جانچ کے نتائج ریکارڈ میں درج ہیں۔ حکومت کی جانب سے یہ بھی بتایا گیا کہ اس معاملے کی سماعت ایک کمیٹی نے کی تھی، جس کی سربراہی کابینہ سکریٹری نے کی۔بتایا جا رہا ہے کہ ٹیلیگرام پلیٹ فارم پر ایسی متعدد خصوصیات موجود ہیں جن کی وجہ سے اسے عارضی پابندی کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ ٹیلیگرام کے ایک گروپ میں 2 لاکھ تک اراکین شامل کیے جا سکتے ہیں۔ ایپ پر بڑی حجم کی فائلیں محفوظ کی جا سکتی ہیں۔ یہاں موبائل نمبر کے بغیر بھی اکاؤنٹ بنایا جا سکتا ہے۔ دراصل رازداری کے معاملے میں ٹیلیگرام دیگر ایپس کے مقابلے کافی حد تک مختلف اور آگے سمجھا جاتا ہے۔