ممبئی (15 جون 2026): بھارت کے شہر جے پور میں ایک احتجاج کے دوران ’کاکروچ جنتا پارٹی‘ کے بانی ابھیجیت دیپکے کو شدید عوامی غیض و غضب کا سامنا کرنا پڑا۔بھارت کی ابھرتی ہوئی سیاسی تنظیم "کاکروچ جنتا پارٹی” کے بانی اور سربراہ ابھیجیت ڈپکے پر جے پور میں ایک احتجاجی ریلی کے دوران چند مشتعل افراد کی جانب سے منظم حکمت عملی کے تحت چاروں طرف سے گھیر کر انہیں تھپڑ مارے اور گرانے کی کوشش کی، جس کے بعد فریقین کے درمیان ہاتھا پائی بھی ہوئی۔میڈیا رپورٹس کے مطابق 30 سالہ ابھیجیت دیپکے گزشتہ روز راجستھان کے دارالحکومت جے پور میں ایک احتجاجی ریلی میں شریک تھے، جہاں انہیں حامیوں نے اپنے کندھوں پر اٹھا رکھا تھا۔اسی دوران دو نامعلوم افراد ہجوم میں داخل ہوئے اور اچانک انہیں تھپڑ مارنا شروع کردیے، ویڈیوز میں دیکھا جاسکتا ہے کہ دیپکے کو چہرے اور کندھوں پر متعدد بار نشانہ بنایا گیا، جس کے بعد ان کے حامی انہیں فوری طور پر وہاں سے لے گئے۔واقعے کے بعد جاری کیے گئے ایک ویڈیو بیان میں ابھیجیت دیپکے نے کہا کہ یہ کارروائی انہیں اور ان کی جماعت کو خوفزدہ کرنے کی کوشش ہے، تاہم وہ اپنے مؤقف سے پیچھے نہیں ہٹیں گے۔ان کا کہنا تھا کہ یہ اوچھے ہتھکنڈے ہمیں ڈرانے، دھمکانے اور اصل مسئلے سے توجہ ہٹانے کی کوشش ہے لیکن ہم اپنے حق کیلیے آواز بلند کرتے رہیں گے۔Abhijit Deepke of the 'Cockroach Janta Party' assaulted during a protest in Jaipur.pic.twitter.com/jYxLwDkG1n https://t.co/LJd1FrbvjZ— Kesavulu (@Kesavulu99) June 15, 2026 یاد رہے کہ کاکروچ جنتا پارٹی حالیہ مہینوں میں بھارت کے نوجوانوں میں تیزی سے مقبول ہوئی ہے۔ جماعت خود کو سست، بے روزگار اور ہمیشہ درست سمجھے جانے والے افراد کی نمائندہ قرار دیتی ہے۔ پارٹی کی بڑھتی ہوئی مقبولیت کا تعلق نوجوانوں کے ان مسائل سے جوڑا جا رہا ہے جن کا سامنا بھارت کی بڑی آبادی کو درپیش ہے۔تنظیم نے مئی 2026 میں آغاز کے بعد انسٹا گرام پر 2 کروڑ 25 لاکھ سے زائد فالوورز حاصل کر لیے ہیں، جبکہ اس کی مہم کا مرکزی نکتہ امتحانی پرچوں کے بار بار لیک ہونے اور نتائج میں مبینہ بے ضابطگیوں کے خلاف احتجاج کرنا ہے۔اس جماعت نے وفاقی وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان کے استعفے کا مطالبہ بھی کر رکھا ہے، تنظیم کا مؤقف ہے کہ امتحانی نظام میں خامیوں کی وجہ سے لاکھوں طلبہ کے تعلیمی اور پیشہ ورانہ مستقبل کو خطرات لاحق ہو رہے ہیں۔دوسری جانب بھارتی حکومت نے تنظیم کے ایکس (سابقہ ٹوئٹر) اکاؤنٹ کو بلاک کر دیا ہے، جس کے خلاف پارٹی نے دہلی کی عدالت سے رجوع کر رکھا ہے۔ تنظیم فی الحال متبادل اکاؤنٹ کے ذریعے اپنے حامیوں سے رابطے میں ہے۔سیاسی مبصرین کے مطابق احتجاج کے دوران پیش آنے والا یہ واقعہ بھارت میں نوجوانوں کی سیاست، تعلیمی اصلاحات اور اظہارِ رائے کی آزادی سے متعلق جاری بحث کو مزید تقویت دے سکتا ہے۔