لندن : برطانیہ میں حکومت نے اپنے پناہ گزین کے قانون میں بڑے پیمانے پر اصلاحات نافذ کی ہیں جس کے بعد غیرملکیوں کو پناہ کے حصول میں شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑسکتا ہے۔بیورو آف امیگریشن اینڈ اوورسیز ایمپلائمنٹ کی رپورٹ کے مطابق برطانیہ میں مستقل تحفظ فراہم کرنے والے گزشتہ نظام کو ختم کرکے اب ایک نئے اور عارضی تحفظ کے ماڈل میں منتقل کیا جا رہا ہے۔اس نئے نظام کے تحت، پناہ کی ابتدائی اجازت پانچ سال سے کم کرکے صرف 30 ماہ کردی گئی ہے اور ملک میں مستقل سکونت حاصل کرنے کے لیے اب پانچ سال کی بجائے 20 سال تک انتظار کرنا ضروری ہوگا، جب تک کہ کوئی شخص نئے "پروٹیکشن ورک اینڈ اسٹڈی ویزا روٹ” پر منتقل نہ ہو جائے۔اس کے علاوہ خاندان کے افراد کو ملانے کا جو خودکار حق پہلے حاصل تھا وہ بھی ختم کردیا گیا ہے، اور سرکاری مالی مدد اور رہائش صرف مشروط بنیادوں پر دی جائے گی، یعنی حکومت اب ضرورت مند پناہ گزینوں کو مدد فراہم کرنے کی پابند نہیں رہے گی بلکہ یہ فیصلہ اس کی صوابدید پر ہوگا۔جن لوگوں کے پاس اثاثے یا آمدنی ہے، ان سے اب ان کی رہائش اور مالی امداد کے اخراجات میں حصہ ڈالنے کا مطالبہ کیا جائے گا۔یہ تبدیلیاں دراصل غیر قانونی نقل مکانی کو روکنے کے لیے ایک سخت رکاوٹ پیدا کرنے کے لیے بنائی گئی ہیں اور ان کا مقصد ان افراد کی حوصلہ شکنی کرنا ہے جو متعدد محفوظ ممالک سے گزر کر برطانیہ پہنچنے کی کوشش کرتے ہیں۔ان تمام افراد کو تیزی سے ملک بدر کر دیا جائے گا جن کی پناہ کی درخواستیں مسترد ہو چکی ہیں اور اب ان ممالک کی طرف بھی انخلاء دوبارہ شروع کیا جائے گا جہاں پہلے روکا گیا تھا۔خاص طور پر حکومت اب ان خاندانوں کو بھی ملک بدر کرنے کے لیے تیار ہے جن کی پناہ کی درخواستیں مسترد ہو چکی ہیں، چاہے ان کے ساتھ بچے ہی کیوں نہ ہوں۔اس کے علاوہ قانونی نظام کو بھی تبدیل کیا جا رہا ہے، جس میں ایک نئی اپیل باڈی کا قیام اور "سنگل اپیل روٹ” متعارف کرائی گئی ہے تاکہ کیسز پر کارروائی تیز ہو اور درخواست گزاروں کے لیے بار بار کی قانونی چارہ جوئی کے ذریعے ملک بدری کو روکنا مشکل ہو جائے۔یہ پالیسی خاص طور پر ان افراد پر بھی اثر انداز ہوگی جو قانونی ویزوں (جیسے وزٹ، ورک یا اسٹڈی) پر ملک میں داخل ہوئے اور پھر پناہ کے لیے درخواست دی۔نظام کو اس لیے بھی مزید سخت کردیا گیا ہے تاکہ جو لوگ پناہ کے نظام میں داخل ہوتے ہیں، خاص طور پر کام کرنے کے حق رکھنے والے افراد کی مالی امداد ختم کرکے انہیں سزا دی جاسکے۔برطانیہ کا موجودہ طریقہ کار غیر قانونی آمد کو روکنے اور صرف محفوظ اور قانونی راستوں کے ذریعے ہی پناہ فراہم کرنے کی طرف منتقل ہو رہا ہے اور ان محفوظ راستوں کے تحت بھی ہر سال قبول کیے جانے والے پناہ گزینوں کی تعداد کو کنٹرول کیا جائے گا۔ان بڑی پالیسی تبدیلیوں کے پیش نظر پاکستان سے آنے والے خواہشمند پناہ گزینوں کو سمجھنا چاہیے کہ اب پناہ کا نظام پہلے سے کہیں زیادہ مشکل اور پابندیوں والا ہوگیا ہے۔اگر آپ برطانیہ میں پناہ لینے کا ارادہ رکھتے ہیں، تو یہ انتہائی ضروری ہے کہ آپ اپنی پناہ کے دعوے سے متعلق تمام متعلقہ معلومات اور ثبوت جلد از جلد پیش کریں، کیونکہ نیا نظام بے بنیاد دعووں کو تیزی سے مسترد کرنے اور بعد میں اپیلوں کے دوران نئی معلومات پیش کرنے کی صلاحیت کو محدود کرنے کے لیے ڈیزائن کیا گیا ہے۔چونکہ سرکاری مدد اب ایک قانونی حق نہیں رہی، لہٰذا ہر درخواست گزار کو اپنی رہائش اور مالی ضروریات میں حصہ ڈالنے کے لیے تیار رہنا چاہیے، خاص طور پر اگر ان کے پاس کوئی اثاثے یا آمدنی ہو۔اس کے علاوہ حکام کی طرف سے عائد کردہ تمام شرائط اور قوانین پر سختی سے عمل کرنا چاہیے، کیونکہ ضوابط کی خلاف ورزی جیسے غیر قانونی کام کرنا یا کسی دوسری رہائش گاہ پر منتقل ہونے سے انکار کرنا، سرکاری مدد کے خاتمے کا سبب بن سکتا ہے۔چونکہ برطانیہ نے خاندانوں کی ملک بدری پر توجہ مرکوز کر رکھی ہے، اس لیے وہ تمام افراد جن کے دعوے مسترد ہوچکے ہیں، انہیں یہ بات ذہن میں رکھنی چاہیے کہ اگر وہ رضاکارانہ طور پر واپسی سے انکار کرتے ہیں تو حکام ان کو زبردستی ملک بدر کریں گے کیونکہ خاندانی زندگی یا انسانی حقوق کی بنیاد پر ملک بدری کو لمبے عرصے تک مؤخر کرنے کے راستے اب تیزی سے بند کیے جا رہے ہیں۔