اترپردیش کی سیاست میں لیڈروں کے پارٹی سے متعلق بیانات کے درمیان سماج وادی پارٹی کے رکن پارلیمنٹ چھوٹے لال سنگھ کھروار کے بیان نے ایک نیا سیاسی طوفان کھڑا کردیا ہے۔ چھوٹے لال سنگھ کھروار نے سہیل دیو بھارتیہ سماج آرتی سربراہ اوم پرکاش راج بھر اور نشاد پارٹی کے سنجے نشاد کو کھلے عام پیشکش کی ہے کہ وہ اپنی پارٹیوں کو سماج وادی پارٹی میں ضم کر دیں۔ایس پی رکن پارلیمنٹ نے یہ بھی یقین دلایا ہے کہ اگر ایس پی حکومت بنتی ہے تو دونوں کو کابینی وزیر بنایا جائے گا۔ تاہم کسی بھی رہنما یا پارٹی کی طرف سے کوئی ردعمل سامنے نہیں آیا ہے۔ اس بیان کو راج بھر کے ایس پی کے اندر پھوٹ کے دعووں کے توڑ کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔چھوٹے لال کھروار نے اپنے سوشل میڈیا اکاؤنٹ ایکس پر اوم پرکاش راج بھر اور سنجے نشاد کے حوالے سے ایک پوسٹ کی ہے جس میں کہا گیا ہے کہ اگر وہ اپنی پارٹیوں کے ساتھ ایس پی میں شامل ہوتے ہیں تو 2027 کے اسمبلی انتخابات میں انہیں جیت دلائی جائے گی اور حکومت بننے پر انہیں کابینی وزیر بھی بنایا جائے گا۔ایس پی ایم پی نے بی جے پی کےپی ڈی اے لیڈروں سے بھی ایس پی میں شامل ہونے کی اپیل کی۔ انہوں نے کہا کہ پی ڈی اے لیڈروں کو بی جے پی میں اپنے خیالات کے اظہار کی مکمل آزادی نہیں ہے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ ایس پی کا پی ڈی اے فارمولہ مسلسل مضبوط ہو رہا ہے اور بی جے پی کے کئی سرکردہ لیڈروں کو انتخابی شکست کا سامنا کرنا پڑا ہے۔نیوز پورٹل ’اے بی پی‘ میں شائع خبر کے مطابق ایس پی ایم پی کھروار نے دعویٰ کیا کہ اکھلیش یادو نے کیشو پرساد موریہ کو وزیر اعلیٰ کے عہدے کی پیشکش کی تھی اگر وہ 100 ایم ایل اے لائیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ پی ڈی اے کی سیاست کا اثر 2024 کے لوک سبھا انتخابات میں واضح طور پر نظر آیا۔