ہندوستان کو پہلی بار ’ایف اے ٹی ایف‘ کے نائب صدر کے عہدے کی ذمہ داری ملی ہے۔ایف اے ٹی ایف ایک بین الاقوامی تنظیم ہے جو دنیا بھر میں منی لانڈرنگ اور دہشت گردی کی فنڈنگ کو روکنے کے قوانین بناتی ہے۔ ہندوستان 2010 سے اس تنظیم کا رکن ہے۔ پیرس میں تنظیم کے ہیڈ کوارٹر میں منعقدہ پلینری میٹنگ کے اختتام پر مرکزی ثقافت کے سکریٹری وویک اگروال کو ایف اے ٹی ایف کا نیا نائب صدر مقرر کیا گیا ہے۔ وہ برطانیہ کے جائلز تھامسن کی جگہ لیں گے، جو یکم جولائی 2025 سے اس عہدے پر فائز تھے۔ پاکستان کو ایف اے ٹی ایف کی وارننگ! گرے لسٹ سے نکلنے کا مطلب دہشت گردی فنڈنگ کی چھوٹ نہیںوویک اگروال جولائی 2026 سے جون 2027 تک اس عہدے پر رہیں گے۔ وہ 1994 بیچ کے آئی اے ایس افسر ہیں اور مدھیہ پردیش کیڈر سے ہیں۔ انہوں نے پہلے فنانشل انٹیلی جنس یونٹ (ایف آئی یو) کے ڈائریکٹر اور ایف اے ٹی ایف میں ہندوستانی ٹیم کے سربراہ کے طور پر کام کیا ہے۔ وزارت خارجہ نے اسے ہندوستان کے لیے ایک بڑی جیت قرار دیا ہے۔ حکومت کا کہنا ہے کہ یہ عہدہ دہشت گردی کی فنڈنگ کو روکنے میں ہندوستان کے مضبوط موقف کو مزید تقویت دے گا۔Major win for India in FATF!Shri Vivek Aggarwal, Secretary, Government of India, has been elected the Vice President of the Financial Action Task Force. As India continues to champion a zero-tolerance policy against terrorism, this leadership role reinforces our relentless…— Randhir Jaiswal (@MEAIndia) June 19, 2026وزارت خارجہ کے ترجمان رندھیر جیسوال نے وویک اگروال کے انتخاب کو ہندوستان کے لیے ایک بڑی جیت قرار دیا اور کہا کہ یہ قائدانہ کردار عالمی سطح پر دہشت گردی کی فنڈنگ کے نیٹورک سے نمٹنے پر ہندوستان کی مسلسل توجہ کو مضبوط کرتا ہے۔ ساتھ ہی انہوں نے کہا کہ ’’چونکہ ہندوستان دہشت گردی کے خلاف زیرو-ٹالرنس پالیسی کو فروغ دے رہا ہے، اس لیے یہ قائدانہ کردار عالمی دہشت گردی کی فنڈنگ کے نیٹورک سے نمٹنے اور غیر قانونی مالیاتی نظام کو ختم کرنے پر ہماری مسلسل توجہ کو مزید تقویت دیتا ہے۔‘‘ وزارت نے ایک بیان میں یہ بھی کہا کہ ’’اس تقرری سے ایک ہندوستانی افسر اینٹی منی لانڈرنگ اور کاؤنٹر ٹیررسٹ فنانسنگ کے لیے عالمی معیار طے کرنے والی تنظیم کے اعلیٰ ترین عہدے پر فائز ہو گیا ہے۔‘‘وویک اگروال نے اپنے بیان میں کہا کہ ’’یہ تقرری ہندوستانی ٹیم کی مجموعی کوششوں اور منی لانڈرنگ اور دہشت گردی کی فنڈنگ کو روکنے والے ہمارے مضبوط نظام کی کامیابی ہے۔‘‘ ساتھ ہی انہوں نے کہا کہ ’’اس اہم عہدے پر کام کرنا میرے لیے بہت اعزاز کی بات ہے۔ میں ایف اے ٹی ایف کے ساتھ مل کر دنیا کے مالیاتی نظام کو محفوظ، سب کے لیے کھلا اور مضبوط بنانے کے لیے پرجوش ہوں۔‘‘