ادھو ٹھاکرے کی شیوسینا میں ٹوٹ پھوٹ کی خبروں کے درمیان کانگریس کے قومی جنرل سکریٹری اور راجیہ سبھا رکن جئے رام رمیش نے مرکزی وزیر داخلہ پر سخت تنقید کی۔ انہوں نے امت شاہ پر اپوزیشن لیڈران کو ہدف بنانے اور جمہوریت کے وقار کو مجروح کرنے کا سنگین الزام عائد کیا۔ ساتھ ہی کہا کہ وہ مسلسل اپوزیشن پر حملہ کر اسے نقصان پہنچا رہے ہیں۔The Union Home Minister is continuing his onslaught on the Opposition and his wrecking of Indian democracy to compensate for his humiliation in the Lok Sabha on April 17, 2026 when he failed to have the Delimitation Bills passed.His allurements are enticing a number of those…— Jairam Ramesh (@Jairam_Ramesh) June 17, 2026جئے رام رمیش نے 17 جون کو سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر جاری کردہ ایک پوسٹ میں لکھا ہے کہ وزیر داخلہ نہ صرف اپوزیشن پر لگاتار حملے کر رہے ہیں بلکہ ہندوستانی جمہوریت کو بھی نقصان پہنچا رہے ہیں۔ انہوں نے سنگین الزام عائد کرتے ہوئے کہا کہ ’’وہ (امت شاہ) یہ سب 17 اپریل 2026 کو لوک سبھا میں ہونے والی اپنی اس بے عزتی کا بدلہ لینے کے لیے کر رہے ہیں، جب وہ حد بندی بل منظور نہیں کروا سکے تھے۔‘‘کانگریس لیڈر نے وزیر داخلہ پر الزام عائد کرتے ہوئے کہا کہ وہ ایسے کئی لیڈران کو اپنی طرف مائل کر رہے ہیں جو صرف 2 سال قبل ہی بی جے پی مخالف مضبوط ایجنڈے کے تحت منتخب ہو کر آئے تھے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ انہیں (اپوزیشن لیڈران کو) بی جے پی میں شامل ہونے پر جو فوائد دیے جا رہے ہیں، وہ حیرت انگیز ہیں۔جئے رام رمیش کا امت شاہ پر شدید حملہ، جمہوریت کو کمزور کرنے کی سازش کا الزام کیا عائدممتا بنرجی کی ترنمول کانگریس میں جاری اختلافات کی طرف اشارہ کرتے ہوئے جئے رام رمیش نے کہا کہ وزیر داخلہ ایک مکمل مفاد پرستانہ مہم چلا رہے ہیں، جو نہایت منظم ہے اور میوچوئل فنڈ انڈسٹری کی طرح لوگوں کی ضرورتوں کے مطابق مختلف اسکیمیں اور پروڈکٹس پیش کرتی ہے۔ کانگریس رکن پارلیمنٹ نے مزید کہا کہ ان کی غیر اخلاقیت کی کوئی حد نہیں، لیکن وہ اپنے اصل مقصد میں کامیاب نہیں ہو پائیں گے۔اس سے قبل جئے رام رمیش نے وزیر داخلہ پر الزام عائد کیا تھا کہ انہوں نے ترنمول کانگریس کے 20 باغی اراکین پارلیمنٹ کو الگ کر کے نیشنلسٹ سٹیزنز پارٹی آف انڈیا (این سی پی آئی) میں شامل کرانے کی سازش رچی۔ کانگریس جنرل سکریٹری نے یہ بھی کہا کہ اس قدم کا مقصد لوک سبھا میں این ڈی اے کی طاقت میں اضافہ کرنا تھا۔ وہ مزید کہتے ہیں کہ اس قسم کی سازشیں ہندوستان میں جمہوری اقدار کے لیے ایک بڑا دھچکا ہیں۔