(20 جون 2026): فرانس میں جی 7 سربراہی اجلاس کے دوران ساتھ تصویر بنوانے کے معاملے پر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور اطالوی وزیر اعظم جورجیا میلونی میں لفظی جنگ جاری ہے۔غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق جورجیا میلونی نے سوشل میڈیا پر ڈونلڈ ٹرمپ کو ایک بار پھر کرارا جواب دیا۔ واضح رہے کہ یہ ردعمل اُس وقت سامنے آیا جب امریکی صدر نے اطالوی وزیر اعظم کی سیاسی مقبولیت پر سوال اٹھایا اور اپنے اس دعوے کو دوبارہ دہرایا کہ انہوں نے ان سے ساتھ تصویر کھنچوانے کیلیے منت سماجت کی۔امریکی صدر کی جانب سے آج بیان سامنے آیا کہ اطالوی وزیر اعظم کی اپنے ملک میں سیاسی مقبولیت کا گراف گر رہا ہے اور وہ مشکلات کا شکار ہیں۔ اس کے ساتھ ہی انہوں نے یہ الزام بھی لگایا کہ وہ ایران کو ایٹمی ہتھیار حاصل کرنے یا بنانے سے روکنے کی امریکی کوششوں میں ساتھ نہیں دے رہی ہیں۔یہ بھی پڑھیں: میلونی دوبارہ دوستی کرنا چاہتی ہیں لیکن میری طرف سے انکار ہے، ٹرمپجورجیا میلونی نے امریکی صدر کے مذکورہ بیان پر ردعمل دیتے ہوئے ڈونلڈ ٹرمپ کے ان مسلسل اور بلاوجہ کے حملوں کو بے معنیٰ قرار دیا۔انہوں نے کہا کہ جہاں تک میری مقبولیت کا تعلق ہے، تو آپ کا دوست ہونا یقیناً میرے لیے فائدہ مند ثابت نہیں ہوا، اور نہ ہی میری مقبولیت آپ کے ساتھ تعلقات پر منحصر ہے، میری مقبولیت سے آپ کا کوئی لینا دینا نہیں ہے، میرا مشورہ ہے کہ آپ اپنی مقبولیت پر توجہ دیں۔یاد رہے کہ آج دیے گئے بیان میں امریکی صدر نے اٹلی پر یہ بھی الزام لگایا کہ جورجیا میلونی نے ایران میں امریکی فوجی کارروائیوں کیلیے اٹلی کی فضائی حدود اور اڈوں کو استعمال کرنے سے روک کر امریکا کیلیے بڑی لاجسٹک مشکلات پیدا کی ہیں۔تاہم، اطالوی وزیر اعظم نے اس کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ اطالوی اڈوں کا استعمال ان معاہدوں کے تحت ہوتا ہے جن کا ہم نے ہمیشہ احترام کیا ہے، اور جب تک میں وزیر اعظم ہوں، ان معاہدوں کی خلاف ورزی نہیں کی جا سکتی۔