راجیہ سبھا انتخاب کے لیے کانگریس کی سینئر لیڈر میناکشی نٹراجن کا پرچۂ نامزدگی مسترد کیے جانے کا معاملہ سرخیوں میں ہے۔ عدالت نے بھی اس معاملہ میں ایسا فیصلہ سنایا، جس سے میناکشی نٹراجن اور کانگریس کے سرکردہ لیڈران انتہائی مایوس ہیں۔ اس معاملہ پر آج حیدر آباد میں ’جمہوریت بچاؤ ستیاگرہ‘ کا انعقاد کیا گیا، جس میں بی جے پی کے ساتھ ساتھ الیکشن کمیشن کو بھی ہدف تنقید بنایا گیا۔लोकतंत्र बचाओ सत्याग्रह | हैदराबादमीनाक्षी नटराजन जी का राज्यसभा चुनाव नामांकन निरस्त किया जाना लोकतांत्रिक मूल्यों, संविधान और चुनावी प्रक्रिया की निष्पक्षता पर गंभीर प्रश्न खड़े करता है।इसी के विरोध में राजीव गांधी पंचायती राज संगठन के राष्ट्रीय अध्यक्ष @SunilPanwarINC जी… pic.twitter.com/wUmGIi2p8C— Congress (@INCIndia) June 20, 2026کانگریس نے اپنے آفیشیل ’ایکس‘ ہینڈل سے ’جمہوریت بچاؤ ستیاگرہ‘ کی کچھ تصویریں جاری کی ہیں اور ساتھ ہی مطلع کیا ہے کہ ’’میناکشی نٹراجن کی راجیہ سبھا انتخاب کے لیے نامزدگی مسترد کیا جانا جمہوری اقدار، آئین اور انتخابی عمل کی غیر جانبداری پر سنگین سوال کھڑے کرتا ہے۔‘‘ ساتھ ہی لکھا ہے کہ ’’میناکشی نٹراجن کا پرچۂ نامزدگی مسترد کیے جانے کے خلاف راجیو گاندھی پنچایت راج سنگٹھن کے قومی صدر سنیل پنوار کی قیادت میں ایک ستیاگرہ منعقد کیا گیا۔ اس دوران تلنگانہ پردیش کانگریس کمیٹی کے صدر مہیش گوڑ سمیت کانگریس کے کئی سینئر لیڈران و کارکنان موجود رہے۔‘‘اس موقع پر تلنگانہ کانگریس کمیٹی کے صدر مہیش کمار گوڑ نے لوگوں کے ہجوم سے خطاب کرتے ہوئے بی جے پی پر جمہوری اداروں کو کمزور کرنے اور سیکولر آوازوں کو دبانے کی کوشش کا الزام عائد کیا۔ ساتھ ہی انھوں نے کہا کہ میناکشی نٹراجن کی نامزدگی مسترد کیا جانا سیاسی محرکات پر مبنی اقدام ہے اور یہ اپوزیشن قوتوں کو کمزور کرنے اور انتخابی عمل میں مداخلت کی ایک بڑی سازش کا حصہ ہے۔میناکشی نٹراجن کی نامزدگی مسترد ہونے پر کھڑگے کا ردعمل، ’مودی کے اشارے پر جمہوریت کا قتل‘مہیش گوڑ نے بی جے پی پر علاقائی پارٹیوں کو نشانہ بنانے، ہر سال 2 کروڑ روزگار فراہم کرنے کے وعدے کو پورا نہ کرنے اور ملک کی دولت کو چند مخصوص افراد کے ہاتھوں میں مرکوز ہونے دینے کا بھی الزام لگایا۔ انھوں نے مودی حکومت کو ہدف تنقید بناتے ہوئے کہا کہ ’’قومی اہمیت کے مسائل کو نظرانداز کیا جا رہا ہے، اور جواہر لعل نہرو، اندرا گاندھی، راہل گاندھی جیسے لیڈران کی سیاسی وراثت کو مسخ کر کے پیش کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔‘‘