جنوبی فلپائن میں آنے والے 7.8 شدت کے طاقتور زلزلے نے سمندر کی تہہ کو 2 میٹر تک بلند کر دیا ہے، جس سے ساحلی پٹی 200 میٹر تک پھیل گئی۔رپورٹ کے مطابق جنوبی فلپائن کے تباہ کن زلزلے نے سمندر کی تہہ کو چیر کر رکھ دیا، سمندری تہہ دو میٹر بلند ہونے سے مرجان چٹانیں اور آبی حیات کی بڑی تعداد موت کے منہ میں چلی گئی۔فلپائن کے جنوبی جزیرے منڈاناؤ میں آنے والے 7.8 شدت کے تباہ کن زلزلے نے صرف انسانی جانوں کو ہی نہیں نگلا بلکہ سمندر کی شکل بھی بدل کر رکھ دی۔ پیر کو آنے والے اس طاقتور جھٹکے کے نتیجے میں کم از کم 61 افراد جان کی بازی ہار گئے جبکہ 40 سے زائد افراد اب بھی لاپتا ہیں۔زلزلے کے بعد ایک حیران کن اور خوفناک منظر اس وقت سامنے آیا جب بعض ساحلی علاقوں میں سمندر کی تہہ اچانک دو میٹر تک اوپر اٹھ گئی۔https://urdu.arynews.tv/wp-content/uploads/2026/06/video-SEA.mp4اس غیرمعمولی جغرافیائی تبدیلی کے باعث ساحل کئی مقامات پر تقریباً 200 میٹر تک پھیل گیا اور وہ سمندری علاقے جو برسوں سے پانی کے نیچے تھے، یکدم خشک زمین کی صورت میں نمایاں ہوگئے۔فلپائن انسٹیٹیوٹ آف وولکینولوجی اینڈ سیسمولوجی کے مطابق کوٹا باٹو ٹرینچ میں زمینی پرتوں کی شدید حرکت نے سرانگانی اور داواؤ آکسیڈنٹل کے ساحلی علاقوں کو اوپر دھکیل دیا، جس کے نتیجے میں سمندر کی تہہ سطح پر آ گئی، ماہرین نے اس عمل کو "کوسٹل اپ لفٹ” قرار دیا ہے۔ماحولیات کے محکمے کی ٹیموں نے متاثرہ علاقوں کا جائزہ لینے کے بعد بتایا کہ طویل فاصلے تک پھیلی مرجان چٹانیں، سمندری گھاس کے میدان اور دیگر حساس ماحولیاتی نظام پانی سے باہر آ گئے ہیں۔ پانی سے محروم ہونے کے باعث مرجان تیزی سے مر رہے ہیں جبکہ ریف فش، سانپ نما مچھلیاں، سیپیاں اور دیگر آبی جاندار بھی بڑی تعداد میں ہلاک ہو رہے ہیں۔سرکاری تصاویر میں مردہ مچھلیوں اور بے جان مرجانوں کے دل دہلا دینے والے مناظر دیکھے جا سکتے ہیں۔ مقامی آبادی نے ابتدا میں خدشہ ظاہر کیا تھا کہ گل سڑ جانے والی آبی حیات سے اٹھنے والی بدبو یا گیسیں انسانی صحت کے لیے خطرناک ثابت ہو سکتی ہیں۔ماہرین کا کہنا ہے کہ متاثرہ علاقے کا مکمل حجم جاننے کے لیے مزید سروے درکار ہیں، تاہم ابتدائی شواہد اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ زلزلے نے نہ صرف زمین بلکہ سمندر کے اندر موجود نازک ماحولیاتی توازن کو بھی شدید نقصان پہنچایا ہے۔فلپائن میں 7.8 شدت کا زلزلہ، ایشیا کے مختلف حصوں میں سونامی کی وارننگ جاری