واشنگٹن: امریکی نائب صدر جے ڈی وینس کا کہنا ہے کہ ایران کے ساتھ کشیدگی ختم کرنے کے لیے مذاکرات میں پیش رفت ہو رہی ہے۔غیر ملکی ذرائع ابلاغ کے مطابق مریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے وائٹ ہاؤس میں میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا کہ بنیادی سوال یہ ہے کہ کیا مذاکرات میں اتنی پیش رفت ہوتی ہے یا نہیں کہ صدر ٹرمپ کی ریڈ لائن کو مطمئن کیا جا سکے؟ان کا کہنا تھا کہ امریکی صدر کی ریڈ لائن بہت سادہ ہے۔ ٹرمپ ایسے اقدامات چاہتے ہیں کہ ایران ایٹمی ہتھیار نہ بنا سکے۔دوسری جانب چین کے صدر شی جن پنگ نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا بیجنگ میں پرتپاک خیر مقدم کیا، انھوں نے اپنے ابتدائی خیر مقدمی کلمات کے بعد کہا کہ چین اور امریکا کو ’’حریف نہیں بلکہ شراکت دار‘‘ ہونا چاہیے۔چینی صدر نے زور دیا کہ دونوں ممالک کو ’’ایک دوسرے کی کامیابی میں معاون بننا اور مشترکہ خوش حالی کے لیے کام کرنا چاہیے۔‘‘ انھوں نے کہا کہ وہ امید کرتے ہیں کہ 2026 بیجنگ اور واشنگٹن کے تعلقات کے لیے ایک ’’تاریخی اور سنگِ میل‘‘ ثابت ہوگا۔شی جن پنگ نے کہا چین اور امریکا دو بڑی طاقتیں ہیں،عالمی استحکام ہمارا مشترکہ ہدف ہے، دونوں ممالک کو ایک دوسرے کا حریف نہیں بلکہ شراکت دار ہونا چاہیے، چین اور امریکا کے درمیان مشترکہ مفادات، اختلافات سے کہیں زیادہ ہیں۔چینی صدر کا کہنا تھا کہ چین اور امریکا دونوں تعاون سے فائدہ اٹھا سکتے ہیں جب کہ تصادم کی صورت میں دونوں کو نقصان ہوگا۔ ہمیں ایک دوسرے کی کامیابی اور مشترکہ ترقی کے لیے معاون بننا چاہیے اور نئے دور میں بڑی طاقتوں کے درمیان بہتر تعلقات کے درست راستے تلاش کرنے چاہئیں۔چینی آئل ٹینکر آبنائے ہرمز سے گزر گیاشی جن پنگ نے مزید کہا کہ ’’جنابِ صدر! میں ان اہم امور پر آپ سے گفتگو کا منتظر ہوں جو ہمارے دونوں ممالک اور پوری دنیا کے لیے اہم ہیں۔ میں آپ کے ساتھ مل کر چین امریکا تعلقات کے اس عظیم جہاز کی سمت متعین کرنے اور اسے آگے بڑھانے کے لیے کام کرنے کا خواہاں ہوں تاکہ 2026 ایک تاریخی اور یادگار سال بنے، جو چین امریکا تعلقات میں ایک نئے باب کا آغاز کرے۔‘‘