سی بی آئی نے نیٹ پیپر لیک معاملے میں پانچ ملزمین کو گرفتار کیا ہے۔ تفتیشی ایجنسی نے ملک بھر میں کئی مقامات پر چھاپے مار کر اہم دستاویزات اور الیکٹرانک آلات بھی قبضے میں لیے ہیں۔ تمل ناڈو کے وزیر اعلیٰ وجے تھلاپاتھی نے اس معاملے پر اپنی خاموشی توڑ دی ہے۔ انہوں نے مرکزی حکومت سے نیٹ کو ختم کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔انہوں نے کہا، "نیٹ کے امتحان سے دیہی علاقوں، سرکاری اسکولوں اور تمل میڈیم کے طلباء کو بہت زیادہ نقصان ہوتا ہے۔ تمل ناڈو حکومت اپنے آغاز سے ہی نیٹ کی مخالفت کرتی رہی ہے۔ نیٹ کو ختم کر دینا چاہیے اور ریاستوں کو 12ویں جماعت کے نمبروں کی بنیاد پر ایم بی بی ایس اور دیگر میڈیکل کورسز میں سیٹیں بھرنے کی اجازت دی جانی چاہیے۔"سی بی آئی کے مطابق اس معاملے میں جن پانچ ملزمان کو گرفتار کیا گیا ہے ان میں ناسک (مہاراشٹرا) کے رہنے والے شبھم کھیرنار، مانگی لال بیوال، وکاس بیوال اور دنیش بیوال ، جے پور (راجستھان) اور یش یادو گروگرام (ہریانہ) شامل ہیں۔ تحقیقاتی ایجنسی نے یہ کیس 12 مئی 2026 کو حکومت ہند کی وزارت تعلیم کی تحریری شکایت کی بنیاد پر درج کیا تھا۔سی بی آئی نے راجستھان، مہاراشٹرا اور ہریانہ سمیت کئی ریاستوں میں چھاپے مارے۔ تلاشی کے دوران مجرمانہ مواد بشمول موبائل فون، لیپ ٹاپ اور دیگر الیکٹرانک آلات ضبط کرلئے گئے۔ ایجنسی راجستھان پولیس کے اسپیشل آپریشنز گروپ (SOG) کے ساتھ مل کر کام کر رہی ہے، جس نے ابتدائی تفتیش کی۔کئی دیگر مشتبہ افراد کی تلاش جاری ہے۔ تحقیقاتی ایجنسی تکنیکی، ڈیجیٹل فرانزک اور مالیاتی تحقیقات کے ذریعہ پورے پیپر لیک سنڈیکیٹ کی جڑ تک پہنچنے کی کوشش کر رہی ہے۔ سی بی آئی نے کہا کہ وہ اس معاملے کی منصفانہ، شفاف اور پیشہ ورانہ تحقیقات کے لیے پوری طرح پابند ہے۔ پیپر لیک سے متعلق تمام پہلوؤں کی مکمل چھان بین کی جا رہی ہے۔ اس گھپلے میں جو بھی ملوث پایا گیا اس کے خلاف سخت قانونی کارروائی کی جائے گی۔جانچ ایجنسی نے عوام اور امتحان سے جڑے کسی بھی فرد سے اس معاملے سے متعلق کوئی بھی معلومات فراہم کرنے کی اپیل کی ہے۔