’امریکی دورے کا اثر‘، آر ایس ایس لیڈر نے دیا پاکستان کے ساتھ بات چیت جاری رکھنے والا بیان، تو کانگریس نے چلائے طنز کے تیر

Wait 5 sec.

کانگریس نے بدھ کو راشٹریہ سویم سیوک سنگھ (آر ایس ایس) کے سینئر عہدیدار دتاتریہ ہوسبالے کے اس بیان پر طنز کسا، جس میں انہوں نے کہا تھا کہ پاکستان کے ساتھ بات چیت کے لیے ہمیشہ ایک راستہ کھلا رکھنا چاہیے۔ کانگریس نے کہا کہ ان کے حالیہ امریکہ دورہ کا اثر ان پر اور آر ایس ایس دونوں پر پڑا ہے۔ کانگریس کے جنرل سکریٹری جے رام رمیش نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر ایک ویڈیو پوسٹ کرتے ہوئے لکھا کہ ’’اگر یہی بیان کسی اور نے دیا ہوتا تو بھکت بریگیڈ اور ٹی وی چینلوں کے سخت ردعمل سامنے آ گئے ہوتے۔‘‘It appears that the recent US trip of Shri Hosabale,during which one of his colleagues admitted to the PM doing what the US wanted him to do, has impacted him as well as the RSS. Just imagine how the bhakt brigade including the various TV channels would have frothed, fumed and… https://t.co/YDf1Z5OHjs— Jairam Ramesh (@Jairam_Ramesh) May 13, 2026جے رام رمیش کا کہنا ہے کہ ’’حالیہ امریکی دورے کے بعد ایسا محسوس ہوتا ہے کہ ہوسبالے پر بھی اس کا اثر پڑا ہے، خاص طور پر اس وقت جب ان کے ایک ساتھی نے یہ تسلیم کیا کہ وزیر اعظم وہی کر رہے ہیں جو امریکہ چاہتا ہے۔ ذرا تصور کیجیے کہ اگر معاملہ اس کے برعکس ہوتا تو بھکت بریگیڈ اور مختلف ٹی وی چینلز کس قدر شور مچاتے، غصہ دکھاتے اور واویلا کرتے...‘‘واضح رہے کہ ہوسبالے نے ’پی ٹی آئی‘ کے ساتھ انٹرویو میں کہا تھا کہ پاکستان کے ساتھ تعطل ختم کرنے کے لیے لوگوں کے درمیان رابطہ سب سے اہم ہے اور بات چیت کے لیے دروازہ ہمیشہ کھلا رہنا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کی فوجی اور سیاسی قیادت ہندوستان کا اعتماد کھو چکی ہے اور اب سول سوسائٹی کو سامنے آناچاہیے۔ ہوسبالے کا کہنا ہے کہ ملک کی سیکورٹی اور وقار کا تحفظ کرنا حکومت کا کام ہے۔ لیکن اس کا مطلب یہ نہیں کہ بات چیت کے راستے بند کر دیے جائیں۔ ہمیں ہمیشہ بات چیت کے لیے تیار رہنا چاہیے۔ آر ایس ایس کے جنرل سکریٹری نے مزید کہا کہ دونوں ممالک کے درمیان تعطل ختم کرنے میں عوامی روابط سب سے ضروری ہیں اور اسے مزید بڑھایا جانا چاہیے۔قابل ذکر ہے کہ آر ایس ایس نے حال ہی میں اپنی تنظیم سے متعلق مغربی ممالک میں پھیلی غلط فہمیوں کو دور کرنے کے لیے ایک مہم چلائی تھی، جس کے تحت ہوسبالے نے امریکہ اور برطانیہ میں مختلف پروگراموں میں شرکت کی تھی۔ ہوسبالے نے اسٹینفورڈ یونیورسٹی اور ہڈسن انسٹی ٹیوٹ سمیت کئی مقامات پر لیکچرز دیے اور ہندوستانی نژاد تارکین وطن سے ملاقاتیں بھی کیں۔