بین الاقوامی سطح پر توانائی بحران اور جغرافیائی سیاسی کشیدگی کا براہ راست اثر اب ہندوستانی معیشت پر بھی نظر آنے لگا ہے۔ وزارت تجارت و صنعت کی جانب سے جاری اعداد و شمار کے مطابق اپریل میں ہول سیل پرائس انڈیکس (ڈبلیو پی آئی) پر مبنی مہنگائی کی شرح میں نمایاں اضافہ درج کیا گیا ہے۔مارچ میں خوردہ مہنگائی کی شرح بڑھ کر 3.40 فیصد پہنچی، فروری میں تھی 3.21 فیصدواضح رہے کہ مارچ میں تھوک مہنگائی کی شرح 3.88 فیصد کے سطح پر تھی، جو اپریل میں تیزی سے بڑھ کر 8.30 فیصد پر پہنچ گئی ہے۔ اس نمایاں اضافے کے پیچھے بنیادی وجہ ایندھن، بجلی اور خام پٹرولیم کی قیمتوں میں آئی بے تحاشہ تیزی ہے۔ وزارت کے بیان کے مطابق اپریل 2026 میں مہنگائی کی شرح میں اضافہ بنیادی طور پر معدنی تیلوں، خام پیٹرولیم، قدرتی گیس، بنیادی دھاتوں، دیگر مینوفیکچرنگ اور غیر غذائی اشیاء کی قیمتوں میں اضافے کی وجہ سے ہے۔تھوک مہنگائی میں آئی یہ تیزی براہ راست مغربی ایشیا میں جاری بحران کو ظاہر کرتا ہے۔ اس کے ساتھ ہی آبنائے ہرمز کی ناکہ بندی نے صورتحال کو مزید سنگین بنا دیا ہے۔ یہ سمندری راستہ ہندوستان کے لیے اسٹریٹجک طور پر انتہائی اہم ہے، کیونکہ ہندوستان اپنا زیادہ تر درآمد شدہ خام تیل اسی راستے سے حاصل کرتا ہے۔ایندھن اور توانائی شعبے میں مہنگائی کی صورتحال سب سے زیادہ تشویشناک رہی ہے۔ ایندھن اور بجلی کے شعبہ میں مہنگائی کی شرح مارچ کے 1.05 فیصد سے بڑھ کر اپریل میں 24.71 فیصد ہو گئی ہے۔ خام تیل کی مہنگائی کی شرح گزشتہ ماہ 51.5 فیصد کے مقابلے اپریل میں 88.06 فیصد تک پہنچ گئی۔ پٹرول میں مہنگائی کی شرح 2.50 فیصد سے بڑھ کر 32.40 فیصد ہو گئی، جبکہ ہائی اسپیڈ ڈیزل میں یہ 3.26 فیصد سے بڑھ کر 25.19 فیصد پر پہنچ گئی۔ ایل پی جی کی مہنگائی کی شرح مارچ کے منفی 1.54 فیصد کے مقابلے اپریل میں مثبت 10.92 فیصد درج کی گئی۔ اشیائے خوردونوش کی مہنگائی کی شرح مارچ کے 1.90 فیصد کے مقابلے میں اپریل میں معمولی اضافے کے ساتھ 1.98 فیصد رہی۔ جبکہ غیر غذائی اشیاء کی مہنگائی کی شرح 11.5 فیصد سے بڑھ کر 12.18 فیصد ہو گئی۔آر بی آئی گورنر نے پٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں اضافہ کا اندیشہ کیا ظاہر، مغربی ایشیا کے حالات کا پڑے گا اثرقابل ذکر ہے کہ عالمی سطح پر خام تیل کی قیمتوں میں 50 فیصد کا نمایاں اضافہ دیکھا گیا ہے۔ حالانکہ اس کے باوجود ہندوستانی حکومت نے پٹرول، ڈیزل اور گھریلو ایل پی جی سلنڈر کی خوردہ قیمتوں کو مستحکم رکھا ہے۔ خوردہ صارفین کو مہنگائی کے براہ رست اثر سے بچانے کے لیے یہ قدم اٹھایا گیا ہے، لیکن دوسری جانب کمرشیل ایل پی جی سلنڈر کی قیمت میں نمایاں اضافہ کیا گیا۔ آگے یہ دیکھنا اہم ہوگا کہ عالمی جغرافیائی سیاسی کشیدگی اور سپلائی چین میں رکاوٹیں کب تک برقرار رہتی ہیں اور حکومت اس دباؤ کو کتنے وقت تک سنبھال پاتی ہے۔