بھارتی ریاست کا بڑا فیصلہ، حجاب پر سے پابندی ختم کر دی

Wait 5 sec.

بنگلورو (14 مئی 2026): کرناٹک حکومت نے بدھ کے روز سالوں تک جاری رہنے والے احتجاج اور عدالتی کشمکش کے بعد کلاس رومز میں حجاب پر عائد پابندی ختم کر دی ہے۔کانگریس کی قیادت میں موجود حکومت نے سابقہ بی جے پی حکومت کے اس فیصلے کو واپس لیتے ہوئے نیا ہدایت نامہ جاری کر دیا ہے، نئی پالیسی کے تحت تعلیمی اداروں میں طلبہ کو محدود دائرے میں رہتے ہوئے روایتی اور ذاتی مذہبی علامتیں استعمال کرنے کی اجازت دے دی گئی ہے۔حکومتی اعلان کے مطابق یہ فیصلہ 2022 میں نافذ کی گئی اس پابندی کے خاتمے کی علامت ہے جس کے تحت کلاس رومز میں حجاب پہننے پر پابندی عائد کی گئی تھی۔حجاب پر پابندی فروری 2022 میں اس وقت لگائی گئی تھی جب کرناٹک میں کئی مسلم طالبات کو ہیڈ اسکارف (حجاب) پہننے کی وجہ سے کلاسوں میں جانے سے روک دیا گیا تھا، جو کہ مقررہ یونیفارم کا حصہ نہیں تھے۔اتر پردیش میں شدید طوفان اور بارش سے تباہی ، ہلاکتوں کی تعداد 89 تک پہنچ گئییہ معاملہ بعد میں کرناٹک ہائی کورٹ تک پہنچا، جس نے مارچ 2022 میں حکومتی حکم کو برقرار رکھا، یہ نوٹ کرتے ہوئے کہ حجاب پہننا اسلام میں ایک ضروری مذہبی عمل نہیں ہے۔ اسی سال اکتوبر میں سپریم کورٹ نے پابندی کو چیلنج کرنے والی درخواستوں پر الگ الگ فیصلہ سنایا۔کانگریس حکومت نے یہ تازہ ترین فیصلہ مسلم کمیونٹی کی جانب سے بڑھتے ہوئے دباؤ کی وجہ سے کیا ہے، ایڈووکیٹ سی آر امتیاز نے فیصلے کا خیر مقدم کرتے ہوئے کہا ’’یہ پابندی بہت پہلے اٹھا لی جانی چاہیے تھی، پابندی کے بعد سے مسلم لڑکیوں کو سالوں تک ان کے آئینی حقوق سے محروم رکھا گیا، اور ان پابندیوں کی وجہ سے ہزاروں لڑکیوں نے اسکول چھوڑ دیا۔‘‘ماہر تعلیم محمد فیاض شریف نے اس فیصلے کو شمولیت اور آئینی ہم آہنگی کی جانب ایک قدم قرار دیا، اور کہا ’’تعلیمی اداروں کو ایسی جگہیں ہونی چاہئیں جہاں طلبہ غیر ضروری رکاوٹوں کے بغیر اپنی خواہشات کو آگے بڑھانے میں عزت اور آزاد محسوس کریں۔‘‘ عطار سید مرتضیٰ حسین نے کہا کہ حکومت کا یہ اقدام تاخیر سے سہی لیکن خوش آئند ہے۔دوسری طرف اپوزیشن لیڈر آر اشوک نے حکومت کے فیصلے پر تنقید کرتے ہوئے الزام لگایا کہ وہ سیاسی فائدے کے لیے حجاب کے مسئلے کا استعمال کر رہی ہے۔