واشنگٹن (13 مئی 2026): امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ ایران کے معاملے پر انھیں چین سے کسی مدد کی ضرورت نہیں ہے۔دورہ چین پر روانگی سے قبل میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا چینی صدر کے ساتھ ایران جنگ پر تفصیلی بات چیت ہو سکتی ہے، اور چین جاتے ہوئے جہاز میں ایران کے ساتھ سیز فائر ختم کرنے پر سوچوں گا۔ڈونلڈ ٹرمپ چین کے صدر شی جن پنگ سے ملاقات کے لیے بیجنگ روانہ ہو گئے ہیں اور ان کا کہنا ہے کہ وہ ایران کے معاملے پر ’’طویل گفتگو‘‘ کریں گے، تاہم تجارتی امور ملاقات کا بنیادی مرکز ہوں گے۔واشنگٹن سے روانگی سے قبل ٹرمپ نے کہا کہ جنگ کے معاملے میں وہ ’’امریکیوں کی مالی صورت حال کے بارے میں نہیں سوچتے‘‘، اور ایران کو جوہری ہتھیار حاصل کرنے سے روکنا ان کی اوّلین ترجیح ہے۔روس نے 35 ہزار کلو میٹر مار کرنے والا طاقت ور ترین میزائل بنا لیاادھر دوحہ انسٹیٹیوٹ فار گریجویٹ اسٹڈیز کے میڈیا اسٹڈیز پروفیسر محمد المصری نے الجزیرہ سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ واشنگٹن جانتا ہے کہ ایران کے خلاف جنگ کے خاتمے کے معاملے میں اسے چین سے زیادہ مدد نہیں ملے گی، کیوں کہ بیجنگ تہران کے ساتھ مضبوط تعلقات برقرار رکھنا چاہتا ہے۔محمد المصری نے کہا کہ چین ایران کے ساتھ اپنے تعلقات کو خطرے میں نہیں ڈالے گا، اس لیے ڈونلڈ ٹرمپ کو زیادہ توقعات نہیں رکھنی چاہئیں۔ انھوں نے کہا میرا خیال ہے کہ اگرچہ چین کو کسی حد تک نقصان پہنچ رہا ہے، لیکن وہ دنیا کے کئی دیگر اہم ممالک کے مقابلے میں کہیں بہتر پوزیشن میں ہے۔ محمد المصری کے مطابق بیجنگ آبنائے ہرمز میں رکاوٹوں کے باوجود متبادل راستے اور حل تلاش کرنے میں کامیاب رہا ہے۔دوسری طرف ایران کی وزارتِ خارجہ کے ترجمان نے کہا ہے کہ ایران کے خلاف امریکا اور اسرائیل کی جنگ ’’ایک باوقار قوم‘‘ اور ’’ایسے پیشہ ور جھوٹوں‘‘ کے درمیان جنگ ہے جنھوں نے ’’ظلم و بربریت کے جواز گھڑ رکھے ہیں۔‘‘