وزیر اعظم نریندر مودی نے اپنے قافلے کے سائز میں نمایاں کمی کردی ہے۔ یہ اقدام ان کے حالیہ گھریلو دورے کے دوران نافذ کیا گیا۔ قافلے میں گاڑیوں کی تعداد میں کٹوتی کی گئی ہے حالانکہ ایس پی جی پروٹوکول کے مطابق ضروری حفاظتی انتظامات کو برقرار رکھا گیا ہے۔ حال ہی میں کی گئی ان کی تقریر کے فوراً بعد گجرات اور آسام میں بھی قافلے کے سائز کو چھوٹا کر دیا گیا تھا۔ ذرائع نے بتایا کہ وزیر اعظم مودی نے یہ بھی کہا ہے کہ جہاں ممکن ہو، ان کے قافلے میں الیکٹرک گاڑیوں کو شامل کیا جائے لیکن اس کے لئے نئی گاڑی نہ خریدی جائیں۔سونا نہ خریدنے کی اپیل کے بعد مودی حکومت کا بڑا فیصلہ، سونے اور چاندی پر بڑھا دی ’امپورٹ ڈیوٹی‘اخراجات میں کٹوتی کی یہ مہم اب کئی صوبوں میں دکھائی دے رہی ہے۔ دہلی کی وزیر اعلیٰ ریکھا گپتا، راجستھان کے وزیر اعلیٰ بھجن لال شرما اور مدھیہ پردیش کے وزیراعلیٰ موہن یادو سمیت دیگر لیڈروں نے بھی اپنے قافلوں میں گاڑیوں کی تعداد کم کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ یہ قدم وزیر اعظم کی اس اپیل کا حصہ مانا جا رہا ہے جس میں انہوں نے ضروری سفر کم کرنے اور قومی وسائل کی بچت پر زور دیا تھا۔ امریکہ-ایران کشیدگی سے پیدا ہوئے توانائی بحران اور خام تیل کی اونچی قیمتوں کے درمیان وزیر اعظم مودی نے اتوار کو باشندگان ملک سے مل کر عالمی اقتصادی غیر یقینی صورتحال، سپلائی چین میں رکاوٹ اور افراط زر کے دباؤ کا سامنا کرنے کی اپیل کی تھی۔’یہ ناکامی کے ثبوت ہیں‘، پی ایم مودی کے ذریعہ سونا اور پٹرول-ڈیزل نہ خریدنے کی اپیل پر راہل گاندھی کی سخت تنقیدوزیر اعظم مودی نے شہریوں سے قوم کے لیے ذمہ دارانہ طرز زندگی اپنانے اور گھریلو مصنوعات کا استعمال کر کے انہیں فروغ دینے کی اپیل کی تھی۔ انہوں نے کہا تھا کہ اگر ہم ہر چیز کے لیے درآمدات پر انحصار کریں گے تو ملک کیسے آگے بڑھے گا؟ اس کے ساتھ ہی انہوں نے لوگوں سے ایک سال تک سونے کی غیر ضروری خریداری سے گریز کرنے اور زرمبادلہ کو بچانے کے لیے بیرون ملک سفر نہ کرنے کی بھی اپیل کی تھی۔ وزیراعظم کا کہنا تھا کہ زرمبادلہ کے ذخائر کو بچانا حب الوطنی کا حصہ ہے اور لوگوں سے غیر ملکوں میں تعطیلات اور فاصلاتی شادی (ڈیسٹینیشن ویڈنگز) نہ کرنے کی اپیل کی۔ انہوں نے ملک کے اندر سیاحت اور تقریبات کو فروغ دینے کی ضرورت پر بھی زور دیا تھا۔