وزیر اعظم نریندر مودی نے اہل وطن سے اپیل کی ہے کہ کم از کم ایک سال تک سونے کی خریداری سے گریز کریں۔ اسی درمیان مرکزی حکومت نے اہم قدم اٹھاتے ہوئے سونا، چاندی اور دیگر قیمتی دھاتوں پر امپورٹ ڈیوٹی (درآمدی ٹیکس) بڑھا دی ہے۔ نئی قیمتیں آج رات سے نافذ ہوں گی۔STORY | Govt raises import duty on gold, silver to 15 pc to curb non-essential importsThe government on Wednesday hiked import duties on gold and silver to 15 per cent from 6 per cent as part of measures to curb inbound shipments of precious metals amid a rising import bill due… pic.twitter.com/X3bF7JuLq0— Press Trust of India (@PTI_News) May 13, 2026واضح رہے کہ مرکزی حکومت کی جانب سے 13 مئی 2026 کو جاری کردہ نوٹیفکیشن کے مطابق سونے اور چاندی پر امپورٹ ڈیوٹی 6 فیصد سے بڑھا کر 15 فیصد کر دی گئی ہے۔ حکومت کا کہنا ہے کہ یہ فیصلہ قیمتی دھاتوں کی درآمد کو کنٹرول کرنے اور ملک کے غیر ملکی زر مبادلہ کے ذخائر پر بڑھتے ہوئے دباؤ کو کم کرنے کے مقصد سے لیا گیا ہے۔امپورٹ ڈیوٹی بڑھانے کے سبب ہندوستان میں سونا اور چاندی مہنگے ہو سکتے ہیں، جس سے ان کی مانگ میں کمی کا امکان ہے۔ ماہرین کا خیال ہے کہ اس سے ملک کا تجارتی خسارہ کم کرنے میں مدد مل سکتی ہے اور روپے کو بھی سہارا ملے گا، جو حالیہ دنوں میں ایشیا کی کمزور کارکردگی دکھانے والی کرنسیوں میں شامل رہا ہے۔بیرون ممالک سے سونا اور چاندی کی برآمدگی اچانک ہوئی بند، کسٹم میں کیوں پھنس گیا سارا مال؟قابل ذکر ہے کہ ہندوستان دنیا میں سونا استعمال کرنے والے سب سے بڑے ممالک میں سے ایک ہے اور اسے چین کے بعد سونے کا دوسرا بڑا خریدار سمجھا جاتا ہے۔ ملک میں ہر سال تقریباً 700 سے 800 ٹن سونے کی مانگ رہتی ہے، جبکہ گھریلو پیداوار صرف 1 سے 2 ٹن کے آس پاس ہے۔ یعنی ہندوستان اپنی ضرورت کا تقریباً 90 فیصد سونا بیرون ممالک سے درآمد کرتا ہے۔ سونے کی درآمد کی ادائیگی ڈالر میں کی جاتی ہے، اس لیے زیادہ درآمد کا اثر براہ راست غیر ملکی زر مبادلہ کے ذخائر پر پڑتا ہے۔ مالیاتی سال 26-2025 میں ہندوستان کی گولڈ امپورٹ بڑھ کر تقریباً 72 ارب ڈالر تک پہنچ گئی، جو گزشتہ مالیاتی سال کے 58 ارب ڈالر کے مقابلے میں قریب 24 فیصد زیادہ ہے۔