تمل ناڈو: مخالفت کے بعد وجے حکومت کا یو-ٹرن، وزیر اعلیٰ کے ’جیوتشی‘ رِکی رادھن پنڈت کی بطور خصوصی مشیر تقرری منسوخ

Wait 5 sec.

تمل ناڈو کی ٹی وی کے حکومت نے وزیر اعلیٰ سی جوزف وجے کے خصوصی مشیر (او ایس ڈی) کے طور پر جیوتشی رکی رادھن پنڈت کی تقرری کو منسوخ کر دیا ہے۔ یہ فیصلہ تقرری کے محض ایک روز بعد ہی شدید مخالفت اور سیاسی تنقید کے باعث لیا گیا ہے۔ حکومت کے پرنسپل سکریٹری نے 13 مئی کو ایک حکم جاری کیا، جس میں کہا گیا کہ رکی رادھن پنڈت کی او ایس ڈی کے طور پر تقرری کو فوری طور پر واپس لیا جاتا ہے۔واضح رہے کہ رادھن پنڈت نہ صرف ایک جیوتشی ہیں، بلکہ ٹی وی کے پارٹی کے ترجمان بھی ہیں۔ انتخابی مہم کے دوران وہ وزیر اعلیٰ کے انتہائی قریبی ساتھی رہے۔ اس تقرری کو لے کر اپوزیشن جماعتوں نے حکومت پر تیکھے حملے کیے تھے۔ اے آئی اے ڈی ایم کے کے راجیہ سبھا رکن آئی ایس انبدورئی نے سوشل میڈیا پر طنز کستے ہوئے لکھا کہ ’’جیوتشی اپنی خود کی قسمت کا اندازہ نہیں لگا پائے اور وجے حکومت کے برے دن شروع ہو گئے۔‘‘ ڈی ایم کے کے ترجمان ٹی کے ایس ایلنگون نے کہا کہ ’’جیوتشی صرف پیشین گوئی کر سکتا ہے، لیکن حکومت چلانے کے لیے قوانین اور اختیارات کی سمجھ رکھنے والے مشیر کی ضرورت ہوتی ہے۔ وزیر اعلیٰ کو اپنی پارٹی سے زیادہ جیوتشی پر بھروسہ ہے۔‘‘اسمبلی میں بھی اس مسئلے پر کافی ہنگامہ ہوا۔ ڈی ایم کے کی اتحادی جماعت ایم جے کے کے صدر تمیمُن انصاری نے کہا کہ حکومت میں جیوتشی کے فارمولے شامل نہیں ہونے چاہئیں۔ ذاتی اعتماد الگ بات ہے، لیکن اسے سرکاری کام کاج میں نہیں لانا چاہیے۔ ڈی ایم ڈی کے کی جنرل سکریٹری پریملتا وجے کانت نے بھی اس تقرری کی سخت مذمت کی۔فلور ٹیسٹ میں پاس ہوئے وجے، 144 اراکین اسمبلی کا ملا ساتھ، مخالفت میں پڑے صرف 22 ووٹقابل ذکر ہے کہ ان تنازعات کے درمیان ٹی وی کے حکومت نے بدھ کو اسمبلی میں اپنی اکثریت ثابت کر دی۔ فلور ٹیسٹ کے دوران حکومت کو 144 اراکین اسمبلی کی حمایت حاصل ہوئی۔ ٹی وی کے اور اس کے اتحادیوں کے پاس ایوان میں پہلے سے ہی 120 اراکین تھے، لیکن اے آئی اے ڈی ایم کے کے باغی اراکین اسمبلی کی حمایت نے حکومت کی جیت کو یقینی بنا دیا۔