بھوپال: مدھیہ پردیش کانگریس کے صدر جیتو پٹواری نے وزیر اعلیٰ موہن یادو کو خط لکھ کر ریاست میں حقیقی مالیاتی نظم و ضبط نافذ کرنے اور سرکاری تقریبات و بڑے سرکاری پروگراموں پر ایک سال کے لیے پابندی عائد کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت اگر عوام کو سادگی اور اخراجات میں کمی کا مشورہ دے رہی ہے تو اس کا آغاز اقتدار کے ایوانوں سے ہونا چاہیے۔جیتو پٹواری نے اپنے خط میں کہا کہ حکومت اور بھارتیہ جنتا پارٹی عوام کو کفایت شعاری، سادگی اور مالی نظم و ضبط کا سبق دے رہی ہے، جبکہ دوسری طرف عوام مہنگائی، بے روزگاری، بجلی اور پانی کے بڑھتے ہوئے بلوں اور کسانوں کی مشکلات کا سامنا کر رہے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ایسے حالات میں صرف عوام سے قربانی مانگنا مناسب نہیں، بلکہ حکومت کو بھی مثال قائم کرنی چاہیے۔انہوں نے ریاست میں ایک سال کے لیے سرکاری تقریبات اور بڑے پروگراموں پر پابندی عائد کرنے کی مانگ کرتے ہوئے کہا کہ کسان خودکشی جیسے سنگین مسائل سے دوچار ہیں، نوجوان مایوسی کا شکار ہیں اور قبائلی علاقوں میں غذائی قلت جیسے مسائل موجود ہیں۔ ایسے وقت میں کروڑوں روپے خرچ کرکے سرکاری تقریبات کا انعقاد عوام کے زخموں پر نمک چھڑکنے کے مترادف ہے۔’لوگ سوچنے پر مجبور ہیں کہ وہ کیا پکائیں، کیا کھائیں اور کیا بچائیں‘، بڑھتی مہنگائی پر کانگریس کا اظہارِ تشویشکانگریس رہنما نے الزام لگایا کہ سرکاری پروگرام اب عوامی خدمت کے بجائے سیاسی سرگرمیوں اور تشہیری مہمات کی شکل اختیار کرتے جا رہے ہیں۔ ان کے مطابق بڑے اسٹیج، استقبالی دروازے، تشہیری بورڈ، ہیلی کاپٹروں اور دیگر ذرائع پر عوامی رقم خرچ کی جا رہی ہے، جس پر نظرثانی کی ضرورت ہے۔جیتو پٹواری نے اپنے خط میں وزرا، اراکین اسمبلی اور مختلف عہدوں پر فائز افراد کو دی جانے والی تنخواہوں، الاؤنس اور دیگر سہولتوں پر بھی نظرثانی کی مانگ کی۔ انہوں نے کہا کہ اگر حکومت عوام سے قربانی کا مطالبہ کر رہی ہے تو عوامی نمائندوں کو بھی مثال پیش کرنی چاہیے۔ کم از کم ایک سال کے لیے ان کی غیر ضروری سہولتوں اور مراعات میں کمی کی جا سکتی ہے۔مدھیہ پردیش میں کسانوں کے مسائل پر کانگریس کا ’سڑک ستیہ گرہ‘، ممبئی-آگرہ قومی شاہراہ پر چکہ جامانہوں نے یہ بھی الزام لگایا کہ ریاست میں انتظامیہ عوامی مسائل کے حل سے زیادہ سیاسی اجتماعات کے لیے بھیڑ جمع کرنے میں مصروف دکھائی دیتی ہے۔ ان کے مطابق سرکاری مشینری کا استعمال سیاسی طاقت کے مظاہرے کے لیے نہیں ہونا چاہیے۔ انہوں نے وزیر اعلیٰ موہن یادو سے مطالبہ کیا کہ غیر ضروری دوروں، بڑے وفود اور سرکاری اخراجات کو کم کرتے ہوئے مالیاتی نظم و ضبط کے لیے ٹھوس اقدامات کیے جائیں۔