تہران (30 جون 2026): نائب وزیر خارجہ کاظم غریب آبادی نے کہا ہے کہ ایران اور عمان میں آبنائے ہرمز پر اتفاق رائے ہو گیا۔ایران کی وزارت خارجہ کے مطابق تہران اور واشنگٹن کے درمیان مشرقِ وسطیٰ کی جنگ کے خاتمے کے لیے ابتدائی معاہدہ طے پانے کے بعد پیر کے روز آبنائے ہرمز کے انتظام و انصرام سے متعلق عمان کے ساتھ پہلی ملاقات ہوئی۔ایران اور عمان دونوں کا کہنا ہے کہ اس آبی گزرگاہ پر ان کی خودمختاری ہے۔ جو خلیجی ممالک سے توانائی کی برآمدات کے لیے نہایت اہم راستہ ہے، جسے ایران نے جنگ کے دوران بند کر دیا تھا۔ایران کے نائب وزیر خارجہ کاظم غریب آبادی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر کہا ’’مسقط کے دورے کے دوران مشترکہ ہرمز کمیٹی کا پہلا اجلاس منعقد ہوا، جس میں ہم نے آبنائے ہرمز سے متعلق موجودہ امور کا جائزہ لینے کے ساتھ ساتھ، اِس کے مستقبل کے انتظام و انصرام پر بھی تبادلہ خیال کیا۔‘‘’’انتقام قطعی است‘‘ ایرانی اخبار کی شائع کردہ ٹرمپ کی تصویر توجہ کا مرکز بن گئیآبنائے ہرمز ایران اور عمان کے درمیان واقع ایک تنگ آبی گزرگاہ ہے، جس کی چوڑائی صرف تقریباً 30 کلومیٹر (18 میل) ہے۔ اس آبی گزرگاہ کا مستقبل تہران اور واشنگٹن کے درمیان تنازع کے خاتمے کے لیے ہونے والے مذاکرات میں ایک اہم اختلافی نکتہ رہا ہے۔ایران جنگ سے قبل موجود نہ رہنے والی ’’سروس فیس‘‘ عائد کرنے پر غور کر رہا ہے، جب کہ امریکا کسی بھی قسم کے چارجز کی مخالفت کرتے ہوئے مؤقف اختیار کرتا ہے کہ آبنائے ہرمز ایک بین الاقوامی آبی گزرگاہ ہے۔غریب آبادی نے بعد ازاں سرکاری ٹیلی وژن کو ٹیلی فون پر انٹرویو دیتے ہوئے کہا کہ پیر کے اجلاس میں تہران اور مسقط آبنائے ہرمز کے انتظام سے متعلق ’’مشترکہ مفاہمت‘‘ تک پہنچ گئے ہیں۔ انھوں نے کہا عمان بھی ’’خودمختار حقوق رکھنے والی ساحلی ریاست کے طور پر ان انتظامات میں شامل ہونے کی حمایت کرتا ہے، اور اس کا بھی ماننا ہے کہ فراہم کی جانے والی خدمات کے بدلے فیس وصول کی جانی چاہیے۔‘‘غریب آبادی نے مزید کہا کہ دونوں ممالک نے فیصلہ کیا ہے کہ اس مقصد کے لیے مشترکہ تکنیکی کمیٹیاں قائم کی جائیں گی۔ اورآئندہ سات یا آٹھ دن میں دونوں ممالک کے ماہرین آج طے پانے والی مفاہمت کے مطابق اپنی تکنیکی بات چیت کا آغاز کریں گے، تاکہ ان انتظامات پر غور، ایک متن تیار کرنے اور بحری جہازوں کے راستوں سے متعلق تکنیکی مذاکرات کیے جا سکیں۔