واشنگٹن (30 جون 2026): لیزا کُک کو ہٹانے میں ناکام صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے حق میں سپریم کورٹ کی جانب سے بڑا فیصلہ آیا ہے، عدالت نے سرکاری اداروں کے سربراہان برطرف کرنے کے اُن کے اختیار میں توسیع کر دی۔سپریم کورٹ میں گزشتہ دن ایک ڈرامائی دن رہا، جس میں صدر ٹرمپ کو ایک بڑی کامیابی ملی، مگر تین ناکامیاں بھی ملیں، یعنی تین مقدمات میں ان کے حق میں فیصلہ نہیں آ سکا۔سی این این کے مطابق امریکی سپریم کورٹ نے سرکاری اداروں کے سربراہان کو برطرف کرنے کے حوالے سے ٹرمپ کے اختیارات میں توسیع کر دی، تاہم لیزا کُک کو فیڈرل ریزرو میں برقرار رکھا۔سپریم کورٹ نے پیر کے روز صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی یہ درخواست مسترد کر دی کہ انھیں فوری طور پر فیڈرل ریزرو کی گورنر لیزا کُک کو برطرف کرنے کی اجازت دی جائے، جس سے فیڈرل ریزرو کی خودمختاری مزید مضبوط ہو گئی ہے۔امریکا : بیٹی کے نام پر حکومت سے فراڈ کرنے والی ماں گرفتارتاہم، عدالت نے صدر کے سرکاری عہدیداروں کو برطرف کرنے کے اختیارات میں توسیع کرتے ہوئے تقریباً ایک صدی پرانے ’ہمفریز ایگزیکیوٹر‘ نظیر کو کالعدم قرار دے دیا۔ ’ہمفریز ایگزیکیوٹر بمقابلہ امریکی حکومت‘ نامی کیس دراصل امریکی سپریم کورٹ کے 1935 کے ایک تاریخی مقدمے کا حوالہ ہے، جس نے یہ اصول قائم کیا تھا کہ امریکی صدر ہر وفاقی ادارے کے سربراہ کو اپنی مرضی سے برطرف نہیں کر سکتے۔ فیصلے پر اختلافی نوٹ میں جسٹس سونیا سوٹومیئر نے کہا کہ یہ فیصلہ ’’صرف انتشار کا باعث بنے گا۔‘‘عدالت نے ان ریاستی قوانین کو بھی برقرار رکھا، جن کے تحت انتخابی دن کے بعد موصول ہونے والے بذریعہ ڈاک ووٹ بھی شمار کیے جاتے ہیں، جو ڈاک کے ذریعے ووٹنگ پر ٹرمپ کی طویل عرصے سے جاری تنقید کے برخلاف ایک غیر متوقع فیصلہ تھا۔ اس کے فوراً بعد ٹرمپ نے کانگریس سے ’’سیو امریکا ایکٹ‘‘ منظور کرنے کا مطالبہ کیا، جس کے تحت ڈاک کے ذریعے ووٹنگ کو محدود کرنے اور ووٹ ڈالنے کے لیے سخت شناختی اور شہریت کے ثبوت کی نئی شرائط نافذ کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔عدالت نے ای جین کیرول کے حق میں آنے والے فیصلے کے خلاف ٹرمپ کی اپیل بھی مسترد کر دی، جس کے نتیجے میں انھیں سابق کالم نگار کو 50 لاکھ ڈالر ادا کرنا ہوں گے۔ عدالت نے ایلن ڈرشووٹز کی سی این این کے خلاف ہتکِ عزت کے مقدمے میں دائر اپیل بھی مسترد کر دی۔امریکی میڈیا کا کہنا ہے کہ سرکاری اداروں کے سربراہان کو برطرف کرنے کے اختیار سے متعلق سپریم کورٹ کے فیصلے سے وفاقی اداروں کی خودمختاری متاثر ہوئی ہے، اس فیصلے سے وفاقی حکومت کے انتظامی ڈھانچے میں تبدیلی کا امکان ہے۔