(30 جون 2026): یورپ میں شدید گرمی کی لہریں جاری ہیں لیکن حیران کن طور پر کئی یورپی ممالک میں گھروں میں ایئر کنڈیشنز اب بھی عام نہیں۔یورپ میں شدید ترین گرمی کی لہر جاری ہے اور اب تک گرمی سے مرنے والوں کی تعداد 1300 سے تجاوز کر چکی ہے، مگر اس قیامت خیز گرمی کے باوجود یورپی ممالک میں ایئرکنڈیشن کا استعمال انتہائی محدود ہے۔غیر ملکی میڈیا کے مطابق یورپی ممالک میں اے سی کے محدود استعمال کی کئی وجوہات ہیں۔ایک وجہ تو یہ ہے کہ تاریخی عمارتوں کے تحفظ کے سخت قوانین کے باعث کئی شہروں میں عمارتوں کے باہر اے سی یونٹ لگانے کی اجازت نہیں، جبکہ جرمنی اور آسٹریا جیسے ممالک میں کرائے کے مکانات میں رہنے والے افراد کو اے سی نصب کرنے کے لیے مالکان کی اجازت درکار ہوتی ہے۔اس کے علاوہ یورپ میں مہنگی بجلی، اے سی چلانے کو جیب پر بوجھ بنا دیتے ہیں، اسی لیے وہاں اسے اکثر ضرورت کے بجائے عیاشی سمجھا جاتا ہے۔دریں اثنا بہت سے یورپی شہری اب بھی روایتی طریقوں جیسے کھڑکیاں بند رکھنا، شٹر استعمال کرنا اور رات کے وقت ٹھنڈی ہوا کے ذریعے گھروں کو ٹھنڈا رکھنے کو ترجیح دیتے ہیں۔واضح رہے کہ یورپی ممالک میں حالیہ ہیٹ ویو کی شدید لہر سے ایک ہفتے میں 1300 سے زائد اموات ریکارڈ کی جا چکی ہیں جب کہ کئی ممالک میں نظام زندگی درہم برہم ہو چکا ہے۔یورپ کے بعد قیامت خیز گرمی کا رُخ امریکا کی جانب، وارننگ جاری