’ویبھو سے بڑا مستقبل کون؟‘ ہیڈ کوچ گوتم گمبھیر کے فیصلہ پر محمد کیف ہوئے ناراض، روہت شرما کی دلائی یاد

Wait 5 sec.

15 سالہ ویبھو سوریہ ونشی کو آئرلینڈ کے خلاف 2 میچوں کی ٹی-20 سیریز میں پلیئنگ الیون میں جگہ نہیں ملی، جس پر کئی کرکٹ ماہرین نے سوال اٹھائے ہیں۔ شریئس ایئر کی کپتانی میں ہندوستانی ٹیم یہ سیریز 0-2 سے ہار گئی۔ اس کے بعد سابق ہندوستانی بلے باز محمد کیف نے بھی ٹیم کے انتخاب پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ سلیکشن کے لیے تمام کھلاڑیوں پر ایک ہی معیار نافذ ہونا چاہیے۔ محمد کیف نے کہا کہ جب روہت شرما کو کپتانی سے ہٹایا گیا تھا تو یہ دلیل دی گئی تھی کہ ٹیم مستقبل کی جانب دیکھ رہی ہے اور نوجوان کھلاڑیوں کو تیار کرنا چاہتی ہے۔ انہوں نے یہ بھی یاد دلایا کہ ٹی-20 عالمی کپ فاتح کپتان سوریہ کمار یادو کو بھی اسی سوچ کے تحت کپتانی سے ہٹایا گیا تھا۔کیف نے اپنی بات کو آگے بڑھاتے ہوئے کہا کہ اگر ٹیم مینجمنٹ مستقبل کی بات کر رہی ہے تو 15 سالہ ویبھو سوریہ ونشی سے بڑا مستقبل کسی کھلاڑی میں نظر نہیں آتا۔ انہوں نے کہا کہ ’’اگر آپ بہترین پلیئنگ الیون کا انتخاب کر رہے تھے تو اس میں ویبھو سوریہ ونشی کا نام ضرور ہونا چاہیے تھا۔ دلیل دی گئی کہ یہ عالمی کپ جیتنے والی ٹیم ہے اور ہم اسی الیون کے ساتھ میدان میں اتریں گے۔ ٹھیک ہے، لیکن پھر یہی اصول ہر کھلاڑی پر یکساں طور پر نافذ ہونا چاہیے۔‘‘ ان کا اشارہ سوریہ کمار یادو کی طرف تھا، جنھیں نہ صرف ٹی-20 کی کپتانی سے ہٹایا گیا بلکہ ٹیم سے بھی ان کی چھٹی کر دی گئی۔محمد کیف نے آئی پی ایل 2026 میں ویبھو سوریہ ونشی کی کارکردگی کا بھی ذکر کیا۔ انھوں نے کہا کہ ویبھو نے آرینج کیپ جیتی، دنیا کے بہترین گیند بازوں کے خلاف رنز بنائے اور ایک ہی سیزن میں سب سے زیادہ چھکے لگانے کے معاملے میں کرس گیل کا ریکارڈ بھی توڑ دیا۔ پھر وہ ہندوستانی ٹیم کے ہیڈ کوچ گوتم گمبھیر کے فیصلہ پر سوال اٹھاتے ہوئے کہتے ہیں کہ ’’اگر آپ مستقبل اور نوجوان کھلاڑیوں کی بات کر رہے ہیں تو آپ کے پاس 15 سال کا ایک ایسا کھلاڑی موجود ہے جس نے آئی پی ایل میں آرینج کیپ جیتی، بڑے گیند بازوں کے خلاف رنز بنائے اور کرس گیل کا ریکارڈ بھی توڑ دیا۔‘‘اپنے بیان کے آخر میں محمد کیف نے کہا کہ سلیکشن کے عمل میں دوہرے معیار نہیں ہونے چاہئیں۔ انہوں نے کہا کہ ’’بہترین پلیئنگ الیون میں ویبھو سوریہ ونشی کو شامل ہونا چاہیے تھا۔ تمام کھلاڑیوں کے لیے انتخاب کا معیار ایک جیسا ہونا چاہیے۔ مختلف کھلاڑیوں کے لیے مختلف اصول نہیں ہو سکتے۔ ویبھو کا پلیئنگ الیون میں نہ ہونا میرے لیے انتہائی حیرت انگیز فیصلہ ہے۔‘‘قابل ذکر ہے کہ کئی سابق کھلاڑیوں نے آئرلینڈ کے خلاف ٹی-20 سیریز میں ویبھو سوریہ ونشی کو پلیئنگ الیون کا حصہ نہ بنائے جانے پر حیرانی ظاہر کی ہے۔ اب سبھی کی نظریں یکم جولائی سے انگلینڈ کے خلاف شروع ہونے والی ٹی-20 سیریز پر مرکوز ہیں۔ امید کی جا رہی ہے کہ اس دورے میں ویبھو سوریہ ونشی کو ہندوستان کی جانب سے بین الاقوامی کرکٹ میں ڈیبیو کرنے کا موقع مل سکتا ہے۔