چیٹ جی پی ٹی کو امریکی شہری نے عدالت میں گھسیٹ لیا، سنگین الزمات

Wait 5 sec.

سان فرانسسکو : مصنوعی ذہانت کے چیٹ بوٹ (چیٹ جی پی ٹی) پر ذہنی بیماری کو بڑھاوا دینے اور خود کشی پر آمادہ کرنے کے سنگین الزامات عائد کردیے گئے۔امریکی ریاست کیلیفورنیا کے شہری نے مصنوعی ذہانت کے معروف پلیٹ فارم چیٹ جی پی ٹی اور اس کی مالک کمپنی کے خلاف مقدمہ دائر کرتے ہوئے الزام عائد کیا ہے کہ چیٹ بوٹ کے ساتھ ہونے والی بات چیت نے اس کی ذہنی بیماری کی شدت میں اضافہ کیا اور اسے خودکشی کی کوشش تک پہنچا دیا۔34سالہ مائیکل لائنز نے سان فرانسسکو کی عدالت میں دائر درخواست میں مؤقف اختیار کیا کہ گزشتہ سال چیٹ جی پی ٹی کے ساتھ مختلف اوقات میں کی جانے والی طویل گفتگو کے دوران اس کی بائی پولر ڈس آرڈر سے متعلق علامات مزید شدت اختیار کرگئیں، جس کے نتیجے میں وہ کئی ہفتوں تک شدید ذہنی وہم و گمان کا شکار رہا۔غیر ملکی میڈیا رپورٹ کے مطابق درخواست گزار نے بتایا کہ وہ جی پی ٹی فور نامی ماڈل استعمال کر رہا تھا جسے بعد میں ہٹا دیا گیا۔ مقدمے میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ چیٹ بوٹ نے اس کی ذہنی کیفیت کو پہچاننے یا اسے پیشہ ورانہ مدد لینے کا مشورہ دینے کے بجائے اس کے غیر حقیقی خیالات کی تائید کی۔عدالتی دستاویزات کے مطابق مائیکل لائنز نے متعدد بار چیٹ بوٹ کو بتایا تھا کہ وہ بائی پولر ڈس آرڈر کی دوا استعمال کر رہا ہے، تاہم اس کے باوجود چیٹ بوٹ نے مبینہ طور پر اس کے اس یقین کی توثیق کی کہ وہ کوئی مقدس ہستی ہے۔مقدمے میں مزید الزام لگایا گیا ہے کہ کئی ہفتوں تک جاری رہنے والی گفتگو کے دوران جب درخواست گزار نے اپنی زندگی ختم کرنے کی خواہش کا اظہار کیا تو چیٹ بوٹ نے ایسے جوابات دیے جو قانونی طور پر خطرناک اور حوصلہ افزا ہیں۔درخواست گزار نے دعویٰ کیا کہ بعد ازاں اس نے منشیات کی زائد مقدار استعمال کرکے خودکشی کی کوشش کی، تاہم قانون نافذ کرنے والے اداروں نے بروقت کارروائی کرتے ہوئے اس کی جان بچا لی۔مقدمے میں مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ کمپنی کو صارف کی ذہنی بیماری کے بارے میں آگاہی تھی، لیکن اس کے باوجود نہ تو گفتگو کو محدود کیا گیا اور نہ ہی کسی قسم کی حفاظتی مداخلت یا انتباہ جاری کیا گیا۔درخواست میں عدالت سے مالی ہرجانے کے علاوہ یہ حکم جاری کرنے کی بھی استدعا کی گئی ہے کہ خودکشی یا خود کو نقصان پہنچانے سے متعلق گفتگو کو خودکار طور پر ختم کیا جائے اور مصنوعی ذہانت کی خدمات کی تشہیر مناسب حفاظتی انتباہات کے بغیر نہ کی جائے۔دوسری جانب اوپن اے آئی کا مؤقف رہا ہے کہ اس کے ماڈلز کو اس طرح تربیت دی جاتی ہے کہ خود کو نقصان پہنچانے کے ارادے کا اظہار کرنے والے افراد کو فوری طور پر حقیقی دنیا میں مدد حاصل کرنے اور متعلقہ وسائل سے رابطہ کرنے کی ترغیب دی جائے۔کمپنی کے مطابق ماڈلز کو تشدد یا نقصان دہ سرگرمیوں میں معاونت فراہم کرنے سے بھی روکا جاتا ہے اور بعض سنگین معاملات میں مناسب اقدامات کیے جاتے ہیں۔