تہران : ایران کے 3 شہروں میں شہید آیت اللہ علی خامنہ ای کی نماز جنازہ اور سوگ کی تیاریاں جاری ہے ، آخری رسومات کا سلسلہ عراق تک پھیلے گا۔تفصیلات کے مطابق ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کی شہادت پر ملک بھر میں شدید سوگ کا سماں ہے اور تہران، قم اور مشہد سمیت مختلف شہروں میں آخری رسومات کی تیاریاں عروج پر ہیں۔شہید آیت اللہ علی خامنہ ای کے ساتھ ان کی بیٹی، بہو، داماد اور نواسی کی نمازِ جنازہ بھی ادا کی جائے گی، اس تاریخی اور سوگوار اجتماع میں دنیا بھر سے اہم شخصیات اور لاکھوں زائرین کی شرکت متوقع ہے۔ایرانی حکام کا کہنا ہے کہ سوگ کی ان عالمی تقریبات میں شرکت کے لیے بین الاقوامی مہمانوں، سربراہانِ مملکت اور وفود کی آمد کا سلسلہ جمعہ سے شروع ہو جائے گا۔تہران کے مصلّٰی امام خمینی عیدگاہ کمپلیکس میں 4 اور 5 جولائی کو سوگ کی مرکزی تقریبات منعقد ہوں گی، تہران کے مشہور مقامات ‘انقلاب روڈ’، ‘لشکری روڈ’ اور ‘آزادی روڈ’ پر 6 جولائی کو نمازِ جنازہ کا تاریخی اجتماع ہوگا، جس میں ایرانی حکام کے دعوے کے مطابق ڈیڑھ سے دو کروڑ لوگوں کی شرکت متوقع ہے۔تاریخی رش اور مہمانوں کی آمد کے پیشِ نظر تہران اور مضافاتی علاقوں میں ہنگامی بنیادوں پر انتظامات کیے گئے ہیں، مہمانوں کی رہائش کے لیے 1500 اسکولز، کالجز اور یونیورسٹی ہاسٹلز تیار کر لیے گئے ہیں۔اس کے علاوہ تہران کے مضافاتی علاقوں میں بھی مزید 800 سے زائد تعلیمی اداروں کو عارضی رہائش گاہوں میں تبدیل کر دیا گیا ہے جبکہ سوگ کی ان بڑی تقریبات کے دوران شہر میں ٹریفک کی روانی برقرار رکھنے کے لیے متبادل روٹس کا باقاعدہ اعلان بھی کر دیا گیا ہے۔تہران کے بعد آخری رسومات کا سلسلہ ایران کے دیگر مقدس شہروں اور عراق تک پھیلے گا، ایران کے مقدس شہر قم میں سوگ کی تقریبات ہوں گی، جہاں زائرین کے لیے 500 تعلیمی اداروں کے ہاسٹلز مختص کیے گئے ہیں۔شہید آیت اللہ علی خامنہ ای کے جسدِ خاکی کو عراق کے مقدس شہروں نجف، کربلا، کاظمین اور دارالحکومت بغداد لے جایا جائے گا، جہاں لاکھوں عراقی شہریوں کی شرکت اور بڑے تعزیتی اجتماعات متوقع ہیں۔عراق سے واپسی پر 9 جولائی کو ایران کے شہر مشہد مقدس میں شہید آیت اللہ علی خامنہ ای کی الوداعی تقریب کا انعقاد کیا جائے گا، جس کے بعد ان کے جسدِ خاکی کو حضرت امام رضا علیہ السلام کے روضہ مبارک کے اندر ہمیشہ کے لیے سپردِ خاک کر دیا جائے گا۔