واشنگٹن (30 جون 2026): امریکی کثیر القومی بینک مورگن اسٹینلے نے توانائی شعبے میں مستقبل کی پیشگوئی کرتے ہوئے نمک کو تیل کا متبادل قرار دیا ہے۔غیر ملکی میڈیا کے مطابق امریکا کے کثیر القومی بینک مورگن اسٹینلے نے مستقبل میں عالمی توانائی کے شعبے سے متعلق غیر معمولی پیشگوئی کرتے ہوئے کہا ہے کہ مستقبل میں ”نمک” (سوڈیم) تیل کی طرح ایک اہم اسٹریٹجک کموڈٹی بن سکتا ہے۔امریکی نشریاتی ادارے سی این بی سی کے مطابق بینک مورگن اسٹینلے کے مطابق آنے والے برسوں میں نمک کی طلب میں نمایاں اضافہ ہو سکتا ہے، کیونکہ سوڈیم آئن بیٹریاں توانائی ذخیرہ کرنے کے شعبے میں ایک مضبوط متبادل کے طور پر سامنے آ رہی ہیں۔رپورٹ کے مطابق تجزیہ کار جیک لو اور ان کی ٹیم کا اندازہ ہے کہ یہ بیٹریاں 2030 تک عالمی بیٹری مارکیٹ کا تقریباً 20 فیصد حصہ حاصل کر لیں گی، جبکہ 2035 تک یہ حصہ بڑھ کر 37 فیصد تک پہنچ سکتا ہے۔لو نے اس ابھرتے ہوئے دور کو ”نئے تیل کا دور”’قرار دیا ہے، جو توانائی کے مستقبل میں سوڈیم کے مرکزی کردار کی طرف اشارہ کرتا ہے۔رپورٹ کے مطابق سوڈیم آئن بیٹریاں اپنی کم لاگت کی وجہ سے تیزی سے مقبول ہو رہی ہیں، جو لیتھیم آئرن فاسفیٹ بیٹریوں کے مقابلے میں تقریباً 30 سے 40 فیصد سستی ہیں اور کم درجہ حرارت میں بہتر کارکردگی دکھاتی ہیں۔یہ تبدیلی زیادہ تر کم قیمت اور زیادہ مؤثر سوڈیم آئن بیٹریوں کی بڑھتی ہوئی طلب کی وجہ سے متوقع ہے، جو مصنوعی ذہانت کے دور میں توانائی کے بڑھتے ہوئے استعمال کے لیے موزوں سمجھی جا رہی ہیں۔ماہرین توقع ظاہر کر رہے ہیں کہ بیٹریوں کی مارکیٹ موجودہ تجرباتی مرحلے سے بڑھ کر 2030 تک سالانہ 830 گیگا واٹ آور تک پہنچ جائے گی، جبکہ 2035 تک یہ بڑھ کر 2.4 ٹیرا واٹ آور تک جا سکتی ہے۔تاہم رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ بیٹریوں کی مارکیٹ کی اس توسیع کے لیے 2035 تک تقریباً 800 ارب ڈالر کی نئی سرمایہ کاری درکار ہوگی، تاکہ سپلائی چین اور پیداواری صلاحیت کو بڑھایا جا سکے۔اس رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ بڑی کمپنیاں، اپنی عالمی موجودگی، مضبوط کسٹمر نیٹ ورک اور تحقیقاتی صلاحیتوں کی بدولت اس ابھرتی ہوئی مارکیٹ میں برتری حاصل کر سکتی ہیں اور کم لاگت سے لے کر اعلیٰ ویلیو ایپلیکیشنز تک مصنوعات تیار کر سکتی ہیں۔