قطر کا امریکا کے ساتھ بالواسطہ سفارتی عمل اور ایران کے اثاثوں کی منتقلی پر تبادلہ خیال

Wait 5 sec.

دوحہ(30 جون 2026): قطر کی وزارتِ خارجہ نے امریکی حکام اور ایرانی وفد کے درمیان براہِ راست ملاقاتوں کی افواہوں کو سختی سے مسترد کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ امریکی ایلچی دوحہ میں موجود ہیں لیکن ان کی ایرانی حکام سے کوئی ملاقات نہیں ہوگی۔الجزیرہ کی رپورٹ کے مطابق امریکی مندوب جیرڈ کشنر اور اسٹیو وٹکوف مستقبل کے امن عمل اور مذاکرات کے فریم ورک کو آگے بڑھانے کے لیے قطر کا دورہ کر رہے ہیں، جہاں وہ مذاکرات کی پیشرفت پر قطری ثالثوں سے ملاقاتیں کریں گے۔رپورٹ کے مطابق قطر اس وقت امریکا اور ایران کے درمیان بالواسطہ مذاکرات کو کامیاب بنانے کے لیے سرگرم سفارتی کوششوں میں مصروف ہے۔قطری وزارتِ خارجہ کے ترجمان نے بتایا کہ ایران کے منجمد کیے گئے 6 ارب ڈالر کے اثاثے ابھی تک تہران کو منتقل نہیں کیے گئے اور ان فنڈز کی منتقلی تہران واشنگٹن مذاکرات کی پیشرفت سے مشروط ہے۔قطری حکام اور امریکی ایلچی کے درمیان ان منجمداثاثوں کی منتقلی اور دیگر مالیاتی امور پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا ہے۔ترجمان نے مزید انکشاف کیا کہ گزشتہ ہفتے آبنائے ہرمز میں ہونے والے فائرنگ کے تبادلے کو روکنے اور کشیدگی کو فوری طور پر کم کرنے کے لیے ایک خصوصی ہاٹ لائن کا استعمال کیا گیا، جس نے صورتحال پر قابو پانے میں انتہائی اہم کردار ادا کیا۔Pezeshkian: Iran to recover $6 billion in funds frozen in Qatarقطری حکام کا مزید کہنا تھا کہ قطر اس وقت آبنائے ہرمز سے بحری جہازوں کے محفوظ گزرنے کو یقینی بنانے کے لیے عمان کی حکومت سے بھی مسلسل رابطے میں ہے۔ قطری وزارتِ خارجہ کا کہنا ہے کہ بین الاقوامی جہاز رانی کی آزادی سب سے مقدم ہے اور خطے میں امن قائم کرنے اور بحری تجارتی راستوں کو محفوظ بنانے کے لیے مشترکہ کوششیں جاری رکھی جائیں گی۔