نئی دہلی : بھارتی ریاست ہریانہ کے شہر فرید آباد میں 28 سالہ تاجر نے مبینہ ذہنی دباؤ اور گھریلو تنازعات کے باعث اپنی دکان میں زندگی کا خاتمہ کرلیا۔واقعے سے قبل نوجوان نے سوشل میڈیا پر ایک ویڈیو پیغام بھی جاری کیا، جس میں اس نے اپنی اہلیہ اور سسرال کے بعض افراد پر ذہنی اذیت پہنچانے کے الزامات عائد کیے۔پولیس کے مطابق متوفی جس کی شناخت راہول کے نام سے ہوئی ہے، نے اپنی ویڈیو میں دعویٰ کیا کہ وہ طویل عرصے سے شدید ذہنی دباؤ کا شکار تھا۔ اس نے اپنی بیوی، ساس، سسر اور سالی پر ہراسانی اور جھوٹے مقدمات میں ملوث کرنے کے الزامات بھی لگائے۔ویڈیو پیغام میں راہول کا کہنا تھا کہ وہ اپنی ازدواجی زندگی کو بہتر بنانے کے لیے ہر ممکن کوشش کرتا رہا، لیکن اس کے باوجود اسے مسلسل مشکلات اور ذہنی پریشانیوں کا سامنا کرنا پڑا۔ اس نے اپنی موت کی صورت میں متعلقہ افراد کے خلاف قانونی کارروائی کا مطالبہ بھی کیا۔متوفی نے ویڈیو میں یہ خواہش بھی ظاہر کی کہ اس کی جائیداد اس کی والدہ، بہن اور بھائیوں کو منتقل کی جائے۔پولیس حکام کے مطابق راہول نے چند ماہ قبل گارمنٹس کی دکان قائم کی تھی اتوار کی صبح وہ گھر سے دکان پر گیا، جہاں بعد میں اس کی لاش پھندے سے لٹکی ہوئی ملی۔ واقعے کی اطلاع ملنے پر پولیس نے موقع پر پہنچ کر شواہد اکٹھے کیے اور لاش کو پوسٹ مارٹم کے لیے منتقل کر دیا۔حکام کا کہنا ہے کہ سوشل میڈیا پر جاری کی گئی ویڈیو اور اس میں لگائے گئے الزامات کا تفصیلی جائزہ لیا جا رہا ہے۔ واقعے کے تمام پہلوؤں کی تحقیقات جاری ہیں اور تفتیش مکمل ہونے کے بعد مزید قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔