تہران (02 جولائی 2026): ایران کے سرکاری نشریاتی ادارے نے منگل کے روز پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف کا پہلے سے ریکارڈ کیا گیا انٹرویو دورانِ نشریات اچانک روک دیا، جس پر پارلیمنٹ میں احتجاج سامنے آیا اور قیاس آرائیاں شروع ہو گئیں کہ انٹرویو کے سیاسی طور پر حساس حصوں کو سنسر کر دیا گیا ہے۔ایران کے سرکاری نشریاتی ادارے خبر گزاری صدا و سیما (آئی آر آئی بی) کی جانب سے پارلیمنٹ کے اسپیکر اور اعلیٰ مذاکرات کار باقر قالیباف کا ریکارڈ شدہ انٹرویو دورانِ نشریات اچانک روک دیا گیا، جس پر اسپیکر کی ٹیم نے شدید برہمی کا اظہار کیا ہے۔قالیباف کا انٹرویو اچانک روکے جانے پر پارلیمنٹ نے احتجاج کیا، پارلیمنٹ کے میڈیا سینٹر کا کہنا ہے کہ انٹرویو نشریات سے 2 گھنٹے قبل سرکاری ٹی وی کے حوالے کر دیا گیا تھا، اس لیے اگر کسی حصے کو نشر نہ کرنے کا فیصلہ کیا گیا تو پہلے پارلیمنٹ سے مشاورت ہونی چاہیے تھی۔ایران انٹرنیشنل کے مطابق قالیباف کا انٹرویو اُس وقت منقطع کیا گیا جب اسپیکر بیرونِ ملک موجود ایران کے منجمد اثاثوں کی رہائی کے طریقۂ کار کی وضاحت کر رہے تھے۔دوحہ: ایران کو 3 ارب ڈالرز دینے پرعبوری اتفاقنشریات کی ویڈیو کے مطابق قالیباف کی گفتگو اچانک بند ہو گئی، جس کے بعد کچھ دیر کے لیے اسکرین سیاہ رہی اور پھر چینل نے دیگر پروگرام نشر کرنا شروع کر دیے۔پارلیمانی میڈیا سینٹر کے مطابق حذف کیے گئے حصوں میں آئی اے ای اے کے معائنے، ایران کے منجمد اثاثوں، تعمیرِ نو کے کریڈٹ، جنگ، آبنائے ہرمز اور امریکا سے مذاکرات جیسے اہم موضوعات شامل تھے۔ایرانی سرکاری ٹیلی وژن نے بعد میں اس پر وضاحت دی کہ انٹرویو کو 2 حصوں میں تقسیم کیا گیا ہے اور بقیہ حصہ بدھ کے روز دوسری قسط میں نشر کیا جائے گا۔ ادارے کا کہنا تھا کہ پروگرام کے اختتام پر اس حوالے سے اسکرین پر چلنے والی پٹی (ٹکر) میں پہلے ہی آگاہ کر دیا گیا تھا۔