پٹنہ کوچنگ ادارہ تصادم کیس: فیصل خان کو 3 جولائی تک گرفتاری سے عبوری تحفظ میں توسیع

Wait 5 sec.

پٹنہ کی ایک سول عدالت نے کوچنگ ادارہ تصادم کیس میں معروف استاد فیصل خان، جو ’خان سر‘ کے نام سے بھی جانے جاتے ہیں، کو بڑی راحت دیتے ہوئے ان کے خلاف کسی بھی سخت کارروائی، بشمول گرفتاری، سے عبوری تحفظ میں 3 جولائی تک توسیع کر دی ہے۔ عدالت نے ان کی پیشگی ضمانت کی درخواست پر سماعت کے دوران پولیس سے مزید دستاویزات طلب کرتے ہوئے آئندہ سماعت 3 جولائی مقرر کی ہے۔سماعت کے دوران عدالت نے تفتیشی حکام کو ہدایت دی کہ وہ واقعے سے متعلق تازہ کیس ڈائری عدالت میں پیش کریں۔ اس کے ساتھ ہی فیصل خان کے نجی محافظوں کے زیر استعمال ہتھیاروں کے لائسنس کی تصدیقی رپورٹ بھی جمع کرائی جائے۔ عدالت نے واضح کیا کہ پیشگی ضمانت کی درخواست پر حتمی غور انہی دستاویزات کے ریکارڈ پر آنے کے بعد کیا جائے گا۔ اس عرصے کے دوران فیصل خان کو گرفتاری سے حاصل عبوری تحفظ برقرار رہے گا۔یہ مقدمہ فیصل خان اور استاد روشن آنند سے وابستہ کوچنگ اداروں کے افراد کے درمیان ہونے والے پرتشدد تصادم سے متعلق ہے۔ پولیس کے مطابق 2 جون کی رات دونوں گروپوں کے درمیان کشیدگی اچانک شدت اختیار کر گئی، جس کے نتیجے میں علاقے میں ہنگامہ آرائی اور توڑ پھوڑ کے واقعات پیش آئے۔ تفتیش کے دوران پولیس کو یہ بھی اطلاع ملی کہ تصادم کے دوران ہوائی فائرنگ کی گئی تھی۔مخالف فریق کا الزام ہے کہ فیصل خان کے نجی محافظوں نے مجمع میں خوف و ہراس پھیلانے اور لوگوں کو دھمکانے کی غرض سے فائرنگ کی۔ پولیس ان الزامات کی مختلف پہلوؤں سے جانچ کر رہی ہے اور اس سلسلے میں شواہد اکٹھے کیے جا رہے ہیں۔واقعے کے بعد پٹنہ پولیس نے فیصل خان، روشن آنند، ان کے نجی محافظوں اور متعدد نامعلوم افراد کے خلاف مختلف دفعات کے تحت مقدمہ درج کیا تھا۔ ان دفعات میں قتل کی کوشش، فساد برپا کرنے اور دیگر سنگین الزامات شامل ہیں۔ پولیس نے فائرنگ کے الزام میں مبینہ طور پر ملوث دو سکیورٹی گارڈز کو گرفتار بھی کیا تھا، جو اس وقت عدالتی تحویل میں ہیں۔اس مقدمے میں گزشتہ ایک ماہ کے دوران کئی اہم پیش رفت سامنے آ چکی ہیں۔ فیصل خان نے 9 جون کو عدالت سے پیشگی ضمانت کی درخواست دائر کی تھی، جبکہ دوسری جانب روشن آنند کو 15 جون کو باقاعدہ ضمانت مل گئی تھی۔ فیصل خان کی جانب سے درج کرائی گئی شکایت میں روشن آنند اور ان کے بھائی پرنس یادو کو بھی ملزمان میں شامل کیا گیا تھا۔ اسی تنازع کے دوران یہ خبر بھی سامنے آئی تھی کہ پرنس یادو کی نیپال میں موت ہو گئی، تاہم اس واقعے کی الگ سے بھی جانچ کی جا رہی ہے۔اب اس مقدمے کی اگلی سماعت 3 جولائی کو ہوگی، جس میں عدالت پولیس کی تازہ کیس ڈائری اور نجی محافظوں کے ہتھیاروں کے لائسنس سے متعلق تصدیقی رپورٹ کا جائزہ لینے کے بعد فیصل خان کی پیشگی ضمانت کی درخواست پر مزید فیصلہ کرے گی۔ اس وقت تک انہیں گرفتاری سے عبوری تحفظ حاصل رہے گا۔