چین میں روسی فوج کی ہو رہی خفیہ فوجی تربیت، کیمیائی جنگ کی تیاری

Wait 5 sec.

روس اور چین کے مابین خفیہ فوجی تعاون کے انکشاف نے دنیا کو حیران کر دیا ہے۔ یورپین افسران اور رائٹرز کے ذریعہ دیکھے گئے دستاویزات کے مطابق گزشتہ سال چین نے روسی فوج کو خفیہ طور پر فوجی تربیت دی تھی۔ اس تربیت کو روسی وزیر دفاع آندرے بیلوسوف نے ذاتی طور پر منظوری دی تھی۔ اس میں کم از کم 4 روسی اور چین کے جنرلوں کی شمولیت تھی۔ یہ تعاون یوکرین جنگ کے پیش نظر تشویش پیدا کر رہا ہے۔ حالانکہ روس اور چین دونوں ممالک ہی اس تربیت کی تصدیق کرنے سے انکار کر رہے ہیں۔ لیکن دستاویزات اور یورپین کی خفیہ اطلاعات اس بات کی تصدیق کرتی ہیں۔ چین کا کہنا ہے کہ وہ یوکرین بحران کے حوالے سے غیر جانب دار ہے اور امن و سلامتی کی حمایت کرتا ہے۔ لیکن مغربی ممالک اسے روس کی حمایت مان رہے ہیں۔ایک خفیہ روسی دستاویز کے مطابق اگست 2025 میں وزیر دفاع آندرے بیلوسوف نے ایک خفیہ ہدایت جاری کی تھی۔ اس کے تحت روسی مسلح افواج کا ایک وفد چین گیا۔ وہاں پیپلز لبریشن آرمی (پی ایل اے) کی سہولیات پر تربیت لی گئی۔ اس پورے پروگرام میں روسی میجر جنرل رستم خسینوف اور چین کے سینئر کرنل سون دایون جیسے اعلی افسران شامل تھے۔ روسی فوج کے ڈپٹی کمانڈر ان چیف کرنل جنرل رستم مرادوف نے روسی وفد کی سرپرستی کی۔ چین کی جانب سے میجر جنرل لی جن سون، جو پی ایل اے کے ریڈیولاجیکل، کیمیائی اور باؤلاجیکل ڈیفنس اکیڈمی کے چیف بھی شامل تھے۔ اس قدر اعلی افسران کی حصہ داری اس بات کو ثابت کرتی ہے کہ دونوں ممالک کا تعاون اہم ہے۔تربیت کا سب سے حساس حصہ ریڈیولاجیکل، بایولاجیکل اور کیمیائی جنگ کی سیکورٹی سے متعلق تھا۔ نومبر 2025 میں بیجنگ کے ایک فوجی مرکز میں 3 ہفتے کا کورس چلایا گیا۔ روسی فوج کو چین کی تربیت کے ذریعہ ایٹمی ری ایکٹر ماڈل پر لیکچر دیا گیا۔ انہیں کیمیکل ریکانیسنس، ریڈیشن ریکانیسنس اور وینٹی لیشن سسٹم کو آلودگی سے محفوظ رکھنے کی تربیت دی گئی۔ نانجنگ میں ہوئی ایک دیگر تربیت میں چینی آلات کے معیار، سمولیٹر کی تعریف کی۔ لیکن چین کے جنگ کے تجربات کا بھی ذکر کیا گیا۔ روس اور یوکرین جنگ میں 4 سال سے زیادہ کا تجربہ ہے۔ جبکہ چین نے عرصے سے کوئی جنگ نہیں لڑی ہے۔یورپی یونین اس پیش رفت کو بہت سنجیدگی سے لے رہا ہے۔ یورپ کے لیے روس خطرہ ہے، جبکہ چین یورپی یونین کا بڑا تجارتی حصے دار بھی ہے۔ چین کی وزارت خارجہ نے ان سبھی الزامات کو بے بنیاد قرار دیا ہے۔ بیجنگ کا کہنا ہے کہ اس کی یوکرین پالیسی صاف ہے۔ وہیں روسی پارلیمنٹ سیکورٹی کمیٹی کے چیف آندرے کارتاپولوف نے اسے بے بنیاد قرار دیا اور کہا کہ روسی فوج کو چین سے کچھ سیکھنے کی ضرورت نہیں ہے۔ رائٹرز کی گزشتہ رپورٹ میں کہا گیا تھا کہ نومبر میں تقریباً 200 روسی فوج کو چین میں تربیت دی گئی تھی۔ ان میں سے کچھ یوکرین جنگ میں بھی شامل ہوئے۔ یہ تربیت دونوں ممالک کے تعلقات کو ظاہر کرتی ہے۔ ماہرین کا ماننا ہے کہ اگر تعاون جاری رہا تو یورپ اور امریکہ کے لیے چیلنج بن سکتا ہے۔ دستاویزات میں ہر شریک کی تفصیلات شامل ہیں۔ اس میں نام، رینک، تاریخ پیدائش، یہاں تک کہ سیکورٹی کلیئرنس کی تفصیل بھی موجود ہے، جس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ پروگرام کو اعلیٰ سطح پر منظم طریقے سے چلایا گیا تھا۔