این آر سی، ووٹر آئی ڈی اور پین کارڈ سمیت دکھائے 15 ثبوت، پھر بھی گوہاٹی ہائی کورٹ میں ثابت نہیں کر سکا ہندوستانی شہریت

Wait 5 sec.

گواہاٹی ہائی کورٹ نے فارنرز ٹریبونل کے اس فیصلے کو درست ٹھہرایا ہے، جس میں آسام کے ایک شہری کو غیر ملکی قرار دیا گیا تھا۔ اس شخص نے اپنی ہندوستانی شہریت ثابت کرنے کے لیے 15 الگ الگ دستاویزات پیش کیے تھے، لیکن ہائی کورٹ نے ان تمام کو قانونی طور پر ناقابل قبول یا شہریت ثابت کرنے کے لیے ناکافی قرار دیا۔ گواہاٹی کے پاس کرایے کے مکان میں رہنے والے اس شخص نے عدالت میں کئی کاغذات پیش کیے تھے۔ ان میں 1951 کا نیشنل رجسٹر آف سٹیزنز (این آر سی)، 1966 سے لے کر اب تک کی کئی ووٹر لسٹ، 1973 کے زمین کے کاغذات، پین کارڈ اور ووٹر آئی ڈی (ای پی آئی سی) شامل تھے۔ تاہم عدالت کے مطابق عرضی گزار فارنرز ایکٹ 1946 کی دفعہ 9 کے تحت یہ ثابت کرنے میں مکمل طور سے ناکام رہا وہ ایک ہندوستانی شہری ہے۔ہندی نیوز پورٹل ’آج تک‘ پر شائع خبر کے مطابق ہائی کورٹ کے جسٹس کلیان رائے سُرانا اور جسٹس شمیمہ جہاں کی بنچ نے ان تمام دستاویزات کو خارج کر دیا۔ عدالت نے کہا کہ 1951 کا این آر سی ریکارڈ کمپیوٹر سے حاصل کیا گیا تھا، تاہم قانون کے مطابق اس کی تصدیق نہیں کی گئی تھی۔ انڈین ایویڈنس ایکٹ کے تحت ضروری سرٹیفکیٹ نہ ہونے کی وجہ سے اس کی کوئی قانونی اہمیت نہیں رہ جاتی۔ اس کے علاوہ 2017 کا اسکول سرٹیفکیٹ اس لیے کالعدم قرار دیا گیا کیونکہ عرضی گزار نے اسے جاری کرنے والے ہیڈ ماسٹر کو گواہ کے طور پر عدالت میں پیش نہیں کیا۔ عدالت نے یہ بھی کہا کہ پین کارڈ اور ووٹر آئی ڈی شہریت کا پختہ ثبوت نہیں ہوتے ہیں۔واضح رہے کہ عرضی گزار کی پیدائش یکم مئی 1988 کو آسام کے گھوگودوبا میں ہوئی تھی۔ ان کی پرورش بھی وہیں ہوئی۔ اس کے بعد وہ ہاشدوبا منتقل ہو گئے۔ ان کے خاندان کا نام ووٹر لسٹ میں مسلسل درج ہے۔ عدالت نے عرضی گزار کی جانب سے پیش کی گئی ووٹر لسٹ میں بڑی غلطیاں پکڑیں۔ سب سے بڑی گڑبڑی عمر کے ریکارڈ میں تھی۔ ووٹر لسٹ میں خاندان کے ایک ممبر کی عمر 1979 میں 25 سال دکھائی گئی تھی، جو 1989 کی لسٹ میں صرف 29 سال درج تھی۔ اس کے علاوہ عرضی گزار کا خاندان مختلف اوقات میں 3 الگ الگ گاؤں دھوباکورا، گھوگودوبا اور ہاشدوبا میں رہا۔ لیکن عدالت نے پایا کہ ان تینوں جگہوں پر رہنے والے خاندان الگ الگ معلوم ہو رہے تھے، جس کی وجہ سے ان کے آباؤ اجداد کا تعلق آپس میں جڑ نہیں پایا۔عرضی گزار کے والد نے بھی عدالت میں گواہی دی تھی، لیکن عدالت نے اسے بھی ادھورا مانا۔ ہائی کورٹ نے بتایا کہ شہریت جیسے سنگین معاملات کو صرف زبانی بیانات کے بھروسے طے نہیں کیا جا سکتا۔ اس کے لیے پختہ دستاویزی ثبوت ضروری ہیں۔ سماعت کے دوران والد کے بیانات اور ووٹر لسٹ کے ریکارڈ میں بھی فرق پایا گیا۔ تمام پہلوؤں کا جائزہ لینے کے بعد گواہاٹی ہائی کورٹ نے کہا کہ فارنرز ٹریبونل کے فیصلے میں کوئی قانونی کمی نہیں ہے۔ عدالت نے عرضی خارج کرتے ہوئے واضح کیا کہ 15 دستاویزات پیش کرنے کے باوجود یہ شخص ہندوستانی شہری ثابت نہیں ہو سکا۔شہریت ثابت کرنے کے لیے عرضی گزار نے پیش کیے یہ 15 ثبوت:والد کے 1951 کے این آر سی کی نقلوالد، دادا، دادی اور خاندان کے دیگر افراد کے نام پر 1951 کے این آر سی کی نقلدادا اور دادی کے نام پر 1966 کی ووٹر لسٹ کی نقلوالد، دادا، دادی اور خاندان کے دیگر افراد کے نام پر 1970 کی ووٹر لسٹ کی نقلدادا کے نام پر 12 ستمبر 1973 کو جاری کردہ زمین کی خریداری کا اصل دستاویز (بیع نامہ)والدین، دادا، دادی اور خاندان کے دیگر افراد کے نام پر 1979 کی ووٹر لسٹ کی نقلوالدین اور خاندان کے دیگر افراد کے نام پر 1985 کی ووٹر لسٹ کی نقلوالدین، چچا اور خاندان کے دیگر افراد کے نام پر 1989 کی ووٹر لسٹ کی نقلوالدین اور بڑے بھائی کے نام پر 1997 کی ووٹر لسٹ کی نقلوالدین اور خاندان کے دیگر افراد کے نام پر 2005 کی ووٹر لسٹ کی نقلوالدین اور خاندان کے دیگر افراد کے نام پر 2013 کی ووٹر لسٹ کی نقلوالدین اور خاندان کے دیگر افراد کے نام پر 2015 کی ووٹر لسٹ کی نقل2017 کا ہاشدوبا آنچلک ہائی اسکول کا سرٹیفکیٹای پی آئی سی (الیکٹرز فوٹو شناختی کارڈ)پین کارڈ