مہوا موئترا پر حملے سے بی جے پی نے سیاسی تشدد کا ماحول پیدا کیا: اکھلیش یادو

Wait 5 sec.

لکھنؤ: سماج وادی پارٹی کے صدر اکھلیش یادو نے ترنمول کانگریس کی رکن پارلیمنٹ مہوا موئترا پر حملے کے واقعے پر بھارتیہ جنتا پارٹی کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے الزام عائد کیا ہے کہ اس نے سیاسی تشدد کا ماحول پیدا کر دیا ہے۔ انہوں نے اس واقعے کو جمہوری اقدار کے منافی قرار دیتے ہوئے عدلیہ اور لوک سبھا اسپیکر سے فوری نوٹس لینے کا مطالبہ کیا۔اکھلیش یادو نے کہا کہ مہوا موئترا پر حملہ انتہائی قابل مذمت ہے اور اس طرح کے واقعات سیاسی اختلاف کو تشدد کی طرف لے جانے کا باعث بنتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ایسے معاملات میں آئینی اداروں کو فوری مداخلت کرنی چاہیے تاکہ عوامی نمائندوں کی سلامتی اور جمہوری روایات کا تحفظ یقینی بنایا جا سکے۔سماجی رابطے کے پلیٹ فارم پر جاری اپنے بیان میں اکھلیش یادو نے الزام لگایا کہ بی جے پی اپنی حکومت والی ریاستوں میں سرکاری مشینری کا سیاسی استعمال کر رہی ہے اور مغربی بنگال میں سیاسی تشدد کا زہریلا ماحول پیدا کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے یہ بھی الزام عائد کیا کہ پولیس کا سیاسی استعمال جمہوری نظام کے لیے نقصان دہ ہے۔انہوں نے کہا کہ اس قسم کے منفی اور جارحانہ رویے سے پورے ملک کے عوام میں ناراضی اور غصہ پایا جا رہا ہے۔ ان کے مطابق بی جے پی کے اپنے بعض رہنما اور کارکن بھی ایسے پرتشدد واقعات کے خلاف ہیں کیونکہ انہیں خدشہ ہے کہ اگر مستقبل میں ان کی حکومت نہ رہی تو اسی نوعیت کے حملوں کا سامنا انہیں بھی کرنا پڑ سکتا ہے۔اکھلیش یادو نے مزید کہا کہ بڑے سیاسی رہنما تو سخت حفاظتی انتظامات کے باعث خود کو محفوظ رکھ لیتے ہیں، لیکن عام کارکن عوامی غصے کا سامنا کرنے کے لیے تنہا چھوڑ دیے جاتے ہیں۔ انہوں نے ایک مرتبہ پھر عدلیہ اور لوک سبھا اسپیکر سے مطالبہ کیا کہ وہ اس معاملے کا فوری نوٹس لیں۔ اکھلیش یادو نے اس واقعے سے متعلق ایک ویڈیو بھی سماجی رابطے کے پلیٹ فارم پر شیئر کی۔دوسری جانب ترنمول کانگریس کی رکن پارلیمنٹ مہوا موئترا نے دعویٰ کیا ہے کہ وہ مغربی بنگال کے ضلع نادیہ کے علاقے پالاشی میں پارٹی کی ایک میٹنگ میں شرکت کے لیے پہنچی تھیں، جہاں رکن اسمبلی علیفہ احمد کی رہائش گاہ کے باہر بھارتیہ جنتا پارٹی کے کارکنوں نے ان کے خلاف احتجاج کیا۔ان کے مطابق احتجاج کے دوران ان پر انڈے پھینکے گئے، ان کے خلاف نعرے بازی کی گئی اور انہیں "واپس جاؤ" اور "چور" جیسے نعرے سننے پڑے۔ مہوا موئترا نے الزام عائد کیا کہ حملے میں شامل افراد عام شہری نہیں بلکہ بھارتیہ جنتا پارٹی کے کارکن تھے اور یہ کارروائی منصوبہ بندی کے تحت کی گئی۔ انہوں نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ پولیس خاموش تماشائی بنی رہی اور واقعے کو روکنے کے لیے مؤثر کارروائی نہیں کی گئی۔