ہزاروں سی سی ٹی وی کیمروں کے باوجود رام مندر میں نذرانے کی چوری کیسے ممکن ہوئی؟

Wait 5 sec.

ایودھیا کے رام مندر میں نذرانے کی چوری کا معمہ سلجھنے کے بجائے مزید پیچیدہ ہوتا جا رہا ہے۔ معاملے کی تحقیقات کے لیے خصوصی تحقیقاتی ٹیم (ایس آئی ٹی) تشکیل دی گئی، مقدمہ درج ہوا، چند افراد کو گرفتار کیا گیا اور رام مندر ٹرسٹ کے بعض عہدیداروں نے بھی استعفے دے دیے، لیکن اس کے باوجود کئی اہم سوالات اب بھی جواب طلب ہیں۔ ان سوالات پر نہ رام مندر ٹرسٹ، نہ راشٹریہ سویم سیوک سنگھ، نہ بھارتیہ جنتا پارٹی اور نہ ہی اتر پردیش کی یوگی حکومت کی جانب سے کوئی واضح جواب سامنے آیا ہے۔سب سے بڑا سوال یہی ہے کہ آخر وہ رام مندر، جو بھارتیہ جنتا پارٹی کی انتخابی سیاست کا مرکزی موضوع رہا، کیا واقعی اتنے کمزور حفاظتی انتظامات کے تحت چلایا جا رہا تھا یا اب بھی چل رہا ہے کہ وہاں سے کروڑوں روپے کا نذرانہ طور پر غائب ہو گیا؟ اگرچہ ابھی تک خرد برد کی مجموعی رقم سرکاری طور پر سامنے نہیں آئی ہے، تاہم یہ معاملہ حفاظتی نظام پر سنگین سوالات اٹھا رہا ہے۔ یہ بھی پوچھا جا رہا ہے کہ ملک کے کروڑوں شہریوں کی مختلف ذرائع سے نگرانی کرنے والی حکومت کیا مندر میں جمع ہونے والے نذرانے کی مؤثر نگرانی کا نظام قائم رکھنے میں ناکام رہی؟ میڈیا رپورٹس کے مطابق رام مندر کے پورے احاطے میں بڑی تعداد میں سی سی ٹی وی کیمرے نصب ہیں، جو ہر لمحے کی سرگرمی کو ریکارڈ کرتے ہیں۔اطلاعات کے مطابق ایودھیا کے رام مندر اور اس کے اطراف کے علاقوں میں سکیورٹی کے لیے دس ہزار سے زائد سی سی ٹی وی کیمرے نصب کیے گئے ہیں۔ ان میں سے تقریباً 800 سے 1600 کیمرے براہ راست مندر کے احاطے، دان پاتروں (جو باکس جس میں نذرانے کو ڈالا جاتا ہے) اور گربھ گرہ کی نگرانی کے لیے مختص ہیں۔اس کے علاوہ مندر کی حفاظت کے لیے خصوصی انتظامات بھی کیے گئے ہیں۔ سکیورٹی اور ہجوم پر نظر رکھنے کے لیے متعدد کیمروں میں مصنوعی ذہانت (اے آئی) پر مبنی ٹیکنالوجی استعمال کی جا رہی ہے۔ مندر کے احاطے میں کسی بھی مشتبہ سرگرمی پر نظر رکھنے کے لیے یہ جدید کیمرے چوبیس گھنٹے فعال رہتے ہیں، جبکہ ان تمام کیمروں کی براہ راست فوٹیج پولیس اور سکیورٹی اداروں کے خصوصی کنٹرول روم میں مسلسل ریکارڈ اور مانیٹر کی جاتی ہے۔مندر میں دان پاتروں اور نذرانے کی گنتی کے لیے مخصوص کمروں میں بھی اعلیٰ معیار کے ہائی ڈیفینیشن کیمرے نصب کیے گئے ہیں تاکہ چندے کی وصولی اور گنتی کا پورا عمل مکمل شفافیت کے ساتھ انجام دیا جا سکے۔یہ تو پورے مندر احاطے میں نصب کیمروں کی عمومی تصویر ہے، لیکن اصل توجہ ان دان پاتروں اور اس کاؤنٹنگ روم پر ہے جہاں نذرانے کی گنتی کی جاتی ہے۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق مندر کے مختلف حصوں میں تقریباً 40 دان پاتر رکھے گئے ہیں۔ عقیدت مند اپنی استطاعت کے مطابق ان میں نقد رقم، نوٹ، سکے، سونے چاندی کے زیورات اور دیگر قیمتی اشیا بطور نذرانہ ڈالتے ہیں۔ مندر کے افتتاح کے ابتدائی دنوں میں زائرین کی غیر معمولی تعداد کے باعث ان دان پاتروں کو روزانہ کم از کم دو مرتبہ کھولا جاتا تھا، کیونکہ اس دوران بڑی مقدار میں نذرانہ جمع ہو رہا تھا۔ تاہم اس وقت دان پاتروں کو کتنی مرتبہ کھولا جاتا ہے، اس بارے میں کوئی سرکاری معلومات دستیاب نہیں ہیں۔دان پاتر کھولنے کے لیے ایک باقاعدہ طریقۂ کار مقرر کیا گیا تھا۔ اس کے مطابق دان پاتر صرف اس وقت کھولا جاتا تھا جب رام مندر ٹرسٹ کے مقررہ افسر، اس مقصد کے لیے تعینات عملہ اور اسٹیٹ بینک آف انڈیا کے افسر یا ملازم موجود ہوں۔ دان پاتر سے حاصل ہونے والی رقم، زیورات اور دیگر قیمتی اشیا کو لوہے کے مقفل کنٹینروں میں رکھ کر گنتی کے کمرے تک منتقل کیا جاتا تھا۔نذرانے کی رقم کی گنتی کا کمرہ (کاؤنٹنگ روم) مندر کے احاطے کے اندر، مرکزی مندر سے تقریباً دو سو میٹر کے فاصلے پر یاتری سہولت مرکز کے تہہ خانے میں واقع ہے۔ یہ مقام مکمل طور پر شری رام جنم بھومی تیرتھ شیترا ٹرسٹ کی انتظامی نگرانی اور حفاظتی حصار میں آتا ہے۔تمام 40 دان پاتروں سے حاصل ہونے والا نذرانہ اسی گنتی کے کمرے میں لایا جاتا ہے۔ یہاں دو شفٹوں میں مجموعی طور پر 44 افراد تعینات رہتے ہیں۔ اس عملے میں ایک انچارج، ایک سپروائزر اور چار سے پانچ کیشیئر (روکڑیا) شامل ہوتے ہیں، جن کی ذمہ داری رقم کی گنتی اور مالی لین دین کی نگرانی ہوتی ہے۔ اس ٹیم میں رام مندر ٹرسٹ کے افسران، اسٹیٹ بینک آف انڈیا کے نمائندے اور چند مقامی رضاکار بھی شامل ہوتے ہیں، جنہیں ٹرسٹ کی جانب سے مقرر کیا جاتا ہے۔ گنتی کے عمل میں شریک افراد کے لیے بغیر جیب والے لباس پہننا لازمی قرار دیا گیا تھا تاکہ رقم چھپانے کا کوئی امکان نہ رہے۔ اس اصول پر اسٹیٹ بینک آف انڈیا اور ٹرسٹ دونوں متفق تھے، لیکن اطلاعات کے مطابق اسے کبھی عملی طور پر نافذ نہیں کیا گیا۔دان پاتروں کے مقامات، وہاں سے نذرانے کو گنتی کے مرکز تک منتقل کرنے والے راستوں اور خود کاؤنٹنگ روم، ہر جگہ سی سی ٹی وی کیمرے نصب ہیں، لیکن تحقیقات کے دوران ایک اہم خامی سامنے آئی ہے۔ رپورٹس کے مطابق ان تمام کیمروں کی ریکارڈنگ محفوظ رکھنے کی گنجائش صرف 45 دن تک محدود تھی، جس کے بعد تمام فوٹیج خودکار طور پر حذف ہو جاتی تھی۔ یہ ایک ایسا پہلو ہے جس پر اب تک کوئی واضح وضاحت سامنے نہیں آئی۔ البتہ ذرائع کا کہنا ہے کہ خصوصی تحقیقاتی ٹیم (ایس آئی ٹی) حذف ہو چکی فوٹیج کو دوبارہ حاصل کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔کاؤنٹنگ روم میں نصب سی سی ٹی وی کیمروں سے جو ریکارڈنگ دستیاب ہوئی ہے، اس میں بعض حیران کن پہلو سامنے آئے ہیں۔ بتایا جاتا ہے کہ گنتی کے دوران نوٹوں کے بنڈل مقررہ ٹرے یا بینک کے کنٹینروں میں رکھنے کے بجائے بعض مخصوص افراد کے ہاتھوں میں دیے جا رہے تھے۔ یہ افراد کون تھے، انہیں یہ اختیار کس نے دیا اور ان کا کردار کیا تھا، اس بارے میں اب تک کوئی باضابطہ وضاحت سامنے نہیں آئی ہے۔تحقیقات میں ایک اور اہم خامی بھی سامنے آئی ہے۔ اطلاعات کے مطابق گنتی میں شامل بعض ملازمین جان بوجھ کر ایسی جگہ بیٹھتے تھے جہاں ان کی پشت سی سی ٹی وی کیمروں کی طرف ہوتی تھی، جس کے باعث کیمرے پورے کمرے یا گنتی کے مکمل عمل کو واضح طور پر ریکارڈ نہیں کر پاتے تھے۔ نتیجتاً کیمروں کی نظر میں صرف ان کی پشت دکھائی دیتی تھی اور کارروائی کا بڑا حصہ اوجھل رہ جاتا تھا۔یہاں ایک بنیادی سوال پیدا ہوتا ہے۔ جب مندر کے ہر اہم مقام پر نصب کیمروں کی براہ راست نگرانی کے لیے مستقل کنٹرول روم موجود تھا تو پھر کیمروں کے سامنے پیدا ہونے والی ایسی رکاوٹوں کو بروقت کیوں نہیں دیکھا گیا؟ اگر کیمرے پورے عمل کو ریکارڈ نہیں کر رہے تھے تو اس کی اطلاع متعلقہ حکام یا ٹرسٹ کو کیوں نہیں دی گئی؟اسی تناظر میں ایک نام بھی سامنے آیا ہے، ارجن دیو۔ وہ ایک سرکاری ملازم ہیں اور گزشتہ 17 برس سے ایودھیا میں ریڈیو مینٹیننس افسر کے طور پر تعینات تھے۔ اطلاعات کے مطابق رام مندر میں نصب تمام سی سی ٹی وی کیمروں کی نگرانی انہی کی ذمہ داری تھی۔ بعض ذرائع کا کہنا ہے کہ وہ رام مندر ٹرسٹ کے جنرل سکریٹری چمپت رائے کے قریبی سمجھے جاتے تھے۔ اگرچہ چمپت رائے اپنا استعفا پیش کر چکے ہیں، تاہم اس کی منظوری ابھی باقی ہے۔ ایس آئی ٹی کی تحقیقات کے دوران ارجن دیو کا نام بھی سامنے آیا، لیکن اس سے قبل ہی ان کا تبادلہ گورکھپور کر دیا گیا۔ اطلاعات کے مطابق اب تک ان سے باضابطہ پوچھ گچھ نہیں کی گئی۔ یہ بھی کہا جاتا ہے کہ ماضی میں بھی ان کے تبادلے کے احکامات جاری ہوئے، مگر ہر مرتبہ کسی نہ کسی سفارش کے باعث وہ منسوخ کر دیے گئے۔ان تمام حقائق اور دعووں کے سامنے آنے کے بعد یہ تاثر مضبوط ہوتا جا رہا ہے کہ سی سی ٹی وی نگرانی کا نظام محض رسمی کارروائی بن کر رہ گیا تھا، جبکہ ریکارڈنگ کو طویل مدت تک محفوظ رکھنے کا بھی کوئی مؤثر انتظام موجود نہیں تھا۔ میڈیا رپورٹس میں یہ دعویٰ بھی کیا جا رہا ہے کہ مندر کے پورے احاطے میں کئی ایسے ’بلائنڈ اسپاٹ‘ موجود ہیں جہاں سی سی ٹی وی کیمروں کی براہ راست نظر نہیں پہنچ پاتی۔(یہ رپورٹ پہلے نوجیون میں شائع ہوئی تھی، جس کا معیاری اردو ترجمہ یہاں پیش کیا جا رہا ہے)