پیدائشی شہریت کیس کے فیصلے پر ٹرمپ نے خاموشی توڑ دی

Wait 5 sec.

واشنگٹن (1 جولائی 2026): امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سپریم کورٹ کے پیدائشی شہریت کیس کے فیصلے پر ردعمل کا اظہار کر دیا۔اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ٹروتھ سوشل‘ پر جاری بیان میں ڈونلڈ ٹرمپ نے لکھا کہ پیدائشی شہریت کا خاتمہ آئینی ترمیم کے بغیر قانون سازی سے ممکن ہے، سپریم کورٹ نے برتھ رائٹ سٹیزن شپ کو برقرار رکھا جو انتہائی نقصان دہ ہے۔امریکی صدر نے کہا کہ کانگریس میں سادہ قانون سازی کے ذریعے اس نقصان کا ازالہ آسانی سے کر سکتے ہیں، کسی طویل، پیچیدہ اور مشکل آئینی ترمیم کی بالکل ضرورت نہیں ہے۔انہوں نے تجویز دی کہ کانگریس برتھ رائٹ سٹیزن شپ ختم کرنے کیلیے آج ہی کام کا آغاز کرے، اس قانون سازی اور اقدام کیلیے کانگریس کو میری غیر مشروط حمایت حاصل ہوگی۔برتھ رائٹ سٹیزن شپ کیس اور سپریم کورٹ کا فیصلہسپریم کورٹ نے پیدائشی شہریت (Birthright Citizenship) کو منسوخ کرنے کی ڈونلڈ ٹرمپ کی کوشش مسترد کر دی۔ عدالت نے 3 کے مقابلے میں 6 ووٹوں سے فیصلہ دیتے ہوئے قرار دیا کہ امریکی آئین کی چودھویں ترمیم کے تحت امریکا میں پیدا ہونے والے تقریباً تمام افراد امریکی شہریت کے حقدار ہیں، چاہے ان کے والدین کی امیگریشن حیثیت کچھ بھی ہو۔عدالت نے ٹرمپ انتظامیہ کے اس ایگزیکٹو آرڈر کو غیر آئینی قرار دیا جس کے تحت وفاقی اداروں کو ہدایت دی گئی تھی کہ اگر کسی بچے کے والدین میں سے کوئی بھی امریکی شہری یا قانونی مستقل رہائشی (گرین کارڈ ہولڈر) نہ ہو تو اس بچے کو پیدائش کے وقت امریکی شہریت نہ دی جائے۔چیف جسٹس جان رابرٹس نے اکثریتی فیصلہ تحریر کرتے ہوئے کہا کہ امریکی آئین کی زبان، ایک صدی سے زائد عرصے پر محیط عدالتی نظائر، خصوصاً 1898 کے تاریخی مقدمے United States v. Wong Kim Ark، اس بات کی واضح تائید کرتے ہیں کہ امریکی سرزمین پر پیدا ہونے والے تقریباً تمام افراد کو پیدائشی شہریت حاصل ہوتی ہے۔یہ فیصلہ صدر ٹرمپ کی امیگریشن پالیسی کیلیے ایک بڑا دھچکا تصور کیا جا رہا ہے، کیونکہ پیدائشی شہریت کو محدود کرنا ان کی سخت گیر امیگریشن حکمت عملی کا اہم حصہ تھا۔ سپریم کورٹ اس سے قبل بھی رواں سال ٹرمپ انتظامیہ کے عالمی ٹیرف سے متعلق ایک بڑے اقدام کو کالعدم قرار دے چکی ہے۔