نیتن یاہو نے جنوبی لبنان سے اسرائیلی فوج کے انخلا سے صاف انکار کر دیا

Wait 5 sec.

(30 جون 2026): اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو نے لبنانی حکومت کے ساتھ طے شدہ سکیورٹی معاہدے کی خلاف ورزی کرتے ہوئے جنوبی لبنان سے اسرائیلی فوج کے انخلا سے صارف انکار کر دیا۔غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق نیتن یاہو نے اسرائیلی فوج کے زیرِ قبضہ لبنانی علاقے کا دورہ کیا، جہاں انہوں نے اہلکاروں سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ جب تک حزب اللہ خطرہ بنی رہے گی، اسرائیل اس علاقے سے پیچھے نہیں ہٹے گا۔واضح رہے کہ پچھلے دنوں امریکا کی ثالثی میں اسرائیلی اور لبنانی حکومتوں کے درمیان ایک سکیورٹی معاہدے پر دستخط ہونے کے بعد سے نیتن یاہو کا مقبوضہ لبنانی علاقے کا یہ پہلا دورہ تھا، جس کے تحت اسرائیل دو علاقے لبنان کی فوج کے حوالے کرے گا۔یہ بھی پڑھیں: اسرائیل کو امریکی فوجی امداد پر انحصار کم کرنا ہوگا، نیتن یاہوتاہم، آج اسرائیلی وزیر اعظم نے اہلکاروں سے خطاب میں کہا کہ ہمارا اصرار یہ ہے کہ جب تک خطرہ ختم نہیں ہو جاتا، ہم جنوبی لبنان سے نہیں جائیں گے، اور جب تک حزب اللہ یہاں موجود ہے، مسلح ہے اور ہمیں دھمکیاں دے رہی ہے، ہم بھی یہاں موجود رہیں گے۔نیتن یاہو نے اسرائیلی فوجیوں کو بتایا کہ حزب اللہ کے پاس اب بھی اپنے اسلحہ خانے میں تقریباً 12،000 راکٹ اور میزائل موجود ہیں، اور اسرائیلی فوج نے لبنان میں 9،000 مزاحمت کاروں کو شہید کیا ہے۔سکیورٹی معاہدے کے تحت، اسرائیلی افواج کو دو پائلٹ زونز سے پیچھے ہٹنا ہے اور لبنانی مسلح افواج کو ان علاقوں کا کنٹرول سنبھالنے کی اجازت دینی ہے۔اسرائیلی فوج نے اسرائیل کی پوری سرحد کے ساتھ لبنان کے اندر لگ بھگ 10 کلومیٹر تک ایک بفر زون بنا رکھا ہے۔ اسرائیلی حکام کا کہنا ہے کہ یہ زون شمالی اسرائیلی بستیوں کو حزب اللہ کے حملوں سے بچانے کیلیے ضروری ہے۔