واشنگٹن (01 جولائی 2026): امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کرپٹو کرنسی منصوبوں سے 1.4 ارب ڈالر سے زائد آمدنی ظاہر کر دی ہے۔روئٹرز کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے گزشتہ سال اپنے خاندان کے کرپٹو منصوبوں سے 1.4 ارب ڈالر سے زائد آمدنی ظاہر کی ہے، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ اب ان کی آمدنی کا بڑا حصہ ڈیجیٹل اثاثوں سے حاصل ہو رہا ہے، جنھیں ان کی حکومتی پالیسیوں سے بھی فائدہ پہنچا ہے۔امریکی آفس آف گورنمنٹ ایتھکس میں 2025 کے لیے جمع کرائے گئے سالانہ مالیاتی گوشواروں کے مطابق، ٹرمپ کی کمپنیوں کو ورلڈ لبرٹی فنانشل سے تقریباً 80 کروڑ ڈالر موصول ہوئے۔ یہ کرپٹو منصوبہ ٹرمپ اور ان کے بیٹوں نے مشترکہ طور پر قائم کیا تھا۔اس آمدنی میں سے 52 کروڑ ڈالر سے زائد کرپٹو ٹوکنز کی فروخت سے حاصل ہوئے، جب کہ 25 کروڑ ڈالر سے زائد ورلڈ لبرٹی فنانشل میں حصص فروخت کرنے سے حاصل ہوئے۔ صدر ٹرمپ اس آمدنی کو اپنے خاندان کے دیگر افراد کے ساتھ تقسیم کرتے ہیں۔ایرانی تیل مہنگا فروخت ہونے لگا، 4 کروڑ بیرل تیل ایکسپورٹٹرمپ نے اپنے ’ٹرمپ میم کوائنز‘ کی فروخت سے مزید 63 کروڑ 50 لاکھ ڈالر آمدنی بھی ظاہر کی۔ یہ اعداد و شمار اس بات کی نشان دہی کرتے ہیں کہ کرپٹو کرنسی نے صدر ٹرمپ کی مالی حیثیت میں نمایاں تبدیلی پیدا کی ہے۔ ایک سال قبل جمع کرائے گئے مالیاتی گوشواروں میں انھوں نے ورلڈ لبرٹی فنانشل کے ٹوکنز کی فروخت سے 5 کروڑ 73 لاکھ 50 ہزار ڈالر آمدنی ظاہر کی تھی، جو اس سال کے گوشواروں میں تقریباً 9 گنا بڑھ گئی۔روئٹرز نے حال ہی میں اندازہ لگایا تھا کہ 2025 میں ٹرمپ کی وائٹ ہاؤس واپسی کے بعد سے ان کے خاندان نے کرپٹو سے متعلق منصوبوں سے کم از کم 2.3 ارب ڈالر کمائے ہیں۔منصب سنبھالنے کے بعد صدر ٹرمپ نے ایسی پالیسیاں اور اقدامات متعارف کرائے جنھیں کرپٹو صنعت نے اپنے لیے فائدہ مند قرار دیا۔ ان میں اسٹیبل کوائنز کے لیے وفاقی قواعد کا نفاذ اور امریکی محکمہ انصاف اور سیکیورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن کی جانب سے کرپٹو صنعت پر نگرانی اور قانونی کارروائیوں میں نرمی شامل ہے۔2025 کے مالیاتی گوشواروں کے مطابق صدر ٹرمپ نے مختلف میڈیا کمپنیوں کے ساتھ تصفیوں سے 8 کروڑ ڈالر سے زائد آمدنی بھی ظاہر کی، جب کہ بیرون ملک پراپرٹی ڈویلپرز کو اپنے نام کے لائسنس کے ذریعے ان کی کمپنی کو 5 کروڑ 20 لاکھ ڈالر کی آمدنی ہوئی، جس میں زیادہ تر معاہدے مشرق وسطیٰ کے شراکت داروں کے ساتھ کیے گئے۔وائٹ ہاؤس کی ترجمان اینا کیلی نے ایک بیان میں کہا ’’نہ صدر اور نہ ہی ان کا خاندان کبھی مفادات کے ٹکراؤ میں ملوث ہوا اور نہ ہی آئندہ ہوں گے۔ صدر ٹرمپ نے انتظامی اقدامات کے ذریعے امریکا کو دنیا کا کرپٹو دارالحکومت بنایا ہے۔‘‘