کراچی (یکم جولائی 2026): شہید رہبر اعظم آیت اللہ خامنہ کے جنازے میں ان کے بیٹے سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای کی شرکت سے متعلق بڑی خبر سامنے آئی ہے۔امریکی اور اسرائیلی حملوں میں شہید سابق ایرانی سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ ای کی نماز جنازہ اور تدفین 9 جولائی کو ہوگی۔ اس سے قبل ایران کے تین شہروں میں ان کی نماز جنازہ ہوگی، جس میں دنیا بھر سے سربراہان مملکت اور حکام شرکت کریں گے۔تاہم ایرانی سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ ای کی نماز جنازہ میں ان کے بیٹے اور ایران کے سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای شرکت کریں گے یا نہیں، یہ بات اب تک معمہ بنی ہوئی ہے۔ تاہم اس حوالے سے ایک بڑی خبر سامنے آئی ہے۔تہران میں موجود اے آر وائی نیوز کے نمائندے سید حسن رضا نقوی کے مطابق 28 فروری کو جس طرح رہبر اعظم آیت اللہ خامنہ ای کی شہادت کا واقعہ ہوا، اس کے بعد سپریم لیڈر کے سیکیورٹی پروٹوکول بالکل بدل گئے ہیں۔نمائندہ اے آر وائی نیوز کے مطابق اب تک جتنے بھی حکومتی آفیشلز صدر پزشکیان و دیگر جنہوں نے مجتبیٰ خامنہ ای سے ملاقات کی ہے۔ انہوں نے یہی بتایا ہے کہ اب تک سپریم لیڈر نے واضح نہیں کیا جب کہ ان کے پروٹوکولز افسران انہیں ابھی عوام کے سامنے نہیں لانا چاہتے۔انہوں نے کہا کہ اب تک حکومت کی جانب سے بھی اس حوالے سے کوئی واضح بیان سامنے نہیں آیا ہے، اس لیے بہت کم امکان ہے کہ اس موقع پر وہ عوام کے سامنے آئیں۔https://urdu.arynews.tv/wp-content/uploads/2026/07/irani.mp4دوسری جانب شہید رہبر اعظم آیت اللہ خامنہ ای کی نماز جنازہ اور سوگ کی تقریبات کو حتمی شکل دے دی گئی ہے۔ ایران کے تین شہروں تہران، قم اور مشہد میں شہید رہبر، ان کی بیٹی، بہو، داماد اور نواسی کی نماز جنازہ ہو گی۔4 جولائی سے شروع ہونے والی سوگ تقریبات کا اختتام 9 جولائی کو مشہد میں رہبر شہید کی امام رضا کے مزار کے احاطے میں تدفین کے ساتھ ہو جائے گا۔جے ڈی وینس کا ایران کے مستقبل سے متعلق بڑا دعویٰ سامنے آگیا