شام کے وزیر خارجہ نے کہا ہے کہ مفادات کا تقاضہ ہوا تو حزب اللہ سے ملاقات کے لیے تیار ہیں۔تفصیلات کے مطابق شامی وزیرخارجہ کی لبنانی صدر، وزیر اعظم اور اسپیکر پارلیمنٹ سے ملاقاتیں ہوئیں جس کے بعد وزیرخارجہ نے اعلان کیا کہ ضروری ہوا تو حزب اللہ سے ملاقات کر سکتے ہیں۔شام اور حزب اللہ کے درمیان ممکنہ ملاقات فریقین کے درمیان تاریخ کا پہلا رابطہ ہو گا۔’شام غیرملکی سازشوں کے لیے امتحان گاہ نہیں‘الجزیرہ کا کہنا ہے کہ شام پر واشنگٹن کا شدید دباؤ ہے لیکن دمشق لبنان میں فوجی مداخلت کا خواہشمند نہیں۔ٹرمپ اسرائیل کی ناکامی پر تنقید کرتے ہوئے شام کو حزب اللہ سے نمٹنے کا مشورہ دے چکے ہیں۔ شام کے موجودہ حکمران ماضی میں بشارالاسد کی حامی حزب اللہ کیخلاف طویل جنگ لڑ چکے ہیں۔چاہتا ہوں شامی صدر حزب اللہ کے خلاف کارروائی کریں، ٹرمپ