لوہا گڑھ قلعہ میں منگیتر سیا گوئل کے ہاتھوں کیتن اگروال کے قتل کے پر سیاحت میں غیر متوقع اضافہ ہوگیا ہے۔بھارتی میڈیا رپورٹ کے مطابق ریاست مہاراشٹرا کا یہ مقبول پہاڑی قلعہ منظرعام پر آنے کے بعد یہاں آنے والے سیاحوں کی تعداد میں 25 فیصد اضافہ دیکھا گیا ہے۔واقعے کے سامنے آنے کے بعد سے تاریخی قلعے میں سیاحوں کی آمد میں تقریباً 25 فیصد اضافہ ہوا ہے اور زیادہ تر توجہ اس جگہ پر مرکوز ہے جسے سیاحوں نے غیر رسمی طور پر "سیا پوائنٹ” کہنا شروع کر دیا ہے۔اس جگہ کا نام سیا گوئل کے نام پر رکھا گیا ہے جس پر اپنے بوائے فرینڈ چیتن چودھری کے ساتھ مل کر پونے کے قریب ایک طویل سفر کے دوران اگروال کو مبینہ طور پر قلعے سے نیچے دھکیلنے کا الزام ہے۔جرم سے منسلک سمجھی جانے والی یہ جگہ اب ایک بڑی کشش بن چکی ہے جہاں سیاح اکثر سیکیورٹی اہلکاروں، مقامی گائیڈز اور ساتھی کوہ پیماؤں (ٹریگرز) سے اس اصل جگہ کی نشاندہی کرنے کا کہتے ہیں۔ لوہا گڑھ جو بنیادی طور پر اپنے دلکش مناظر اور ٹریکنگ کے راستوں کے لیے جانا جاتا ہے اب اس ہائی پروفائل تحقیقات کے گرد گھومتے تجسس کی وجہ سے بہت سے سیاحوں کو اپنی طرف راغب کر رہا ہے۔Search results for "siya goyal” – ARY Newsپولیس نے منگل کو لوہا گڑھ قلعہ تحقیقات کی وجہ سے سیاحوں کے لیے عارضی طور پر بند کر دیا ہے۔ ‘اے این آئی’ کے مطابق، سائٹ پر پہلے سے موجود سیاحوں کو نکال دیا گیا ہے جبکہ تفتیش کاروں نے فرانزک اور دیگر تفتشی کارروائیاں مکمل کیں۔واضح رہے کہ لوہا گڑھ قلعہ طویل عرصے سے مہاراشٹر کے سب سے زیادہ دیکھے جانے والے ثقافتی مقامات میں سے ایک رہا ہے جو ہر سال لاکھوں سیاحوں کو اپنی طرف متوجہ کرتا ہے، قلعے میں عام طور پر ہفتے کے آخر (ویکنڈ) اور عام تعطیلات پر 4,000 سے 5,000 سیاح آتے ہیں۔ تاہم مقامی رہائشیوں کا دعویٰ ہے کہ اب کام کے دنوں (ورکنگ ڈیز) میں بھی اتنی ہی تعداد دیکھی جا رہی ہے اور بہت سے سیاح براہ راست اب مقبول ہونے والے "سیا پوائنٹ” کا رخ کر رہے ہیں۔اس صورتحال نے تحفظِ آثارِ قدیمہ کے ماہرین اور ثقافتی کارکنوں میں تشویش پیدا کر دی ہے جنہیں خدشہ ہے کہ جرم کی سنسنی خیز نوعیت کی وجہ سے قلعے کی تاریخی اہمیت گہنا رہی ہے۔