کانگریس نے آج مرکزی حکومت اور بی جے پی پر جمہوری اداروں کو کمزور کرنے، انتخابی عمل میں مداخلت، اپوزیشن کو نشانہ بنانے اور آئینی اقدار کو نقصان پہنچانے کے سنگین الزامات عائد کیے۔ پارٹی جنرل سکریٹری کے سی وینوگوپال نے کولکاتا میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے نہ صرف مرکزی حکومت کو نشانہ بنایا بلکہ ی بھی کہا کہ کانگریس ملک میں جمہوریت اور آئین کے تحفظ کے لیے اپنی جدوجہد مضبوطی کے ساتھ جاری رکھے گی۔Stolen election, not a democratic mandate. pic.twitter.com/e5WMPRcglO— Congress (@INCIndia) July 1, 2026کے سی وینگوپال نے کہا کہ ووٹر لسٹ کی خصوصی گہری نظرثانی (ایس آئی) کا مقصد انتخابات سے قبل ووٹر لسٹ کی تطہیر کرنا ہوتا ہے۔ الیکشن کمیشن آف انڈیا کی بنیادی ذمہ داری ہوتی ہے کہ وہ عام شہریوں کے حق رائے دہی کا تحفظ کرے، آزادانہ اور منصفانہ انتخابات کا انعقاد کرائے اور ہر اہل شہری کو ووٹ ڈالنے کا موقع فراہم کرے۔ اس کے باوجود 27 لاکھ ووٹرز کے نام انتخابی فہرست سے حذف کر دیے گئے، جو انتہائی تشویش ناک ہے۔S.I.R. is a process to clean the voters' list during election time. The primary duty of the Election Commission of India is to ensure the voting rights of the common people, conduct free and fair elections, and give the people of this country the opportunity to cast their… pic.twitter.com/vyg0fA0d18— Congress (@INCIndia) July 1, 2026کے سی وینوگوپال کا کہنا ہے کہ انہوں نے راجاگوپال نامی ایک شخص سے ملاقات کی، جسے ایس آئی آر کے عمل کی وجہ سے پاسپورٹ جاری نہیں کیا گیا۔ انہوں نے بتایا کہ راجاگوپال کی بیٹی کی شادی امریکہ میں تھی، جس کے لیے انہوں نے اپنے پاسپورٹ کی تجدید کی درخواست دی، لیکن انہیں یہ کہہ کر منع کر دیا گیا کہ ان کا نام ووٹر لسٹ میں موجود نہیں ہے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ راجاگوپال کوئی غیر ملکی یا بے شناخت شخص نہیں، نہ ہی ان کا سری لنکا میں ووٹ ہے، بلکہ وہ گزشتہ 30 سے 40 برس سے ہندوستان میں مقیم ہیں۔ کانگریس لیڈر نے سوال اٹھایا کہ جب 27 لاکھ ووٹرز کے نام انتخابی فہرست سے خارج کر دیے گئے ہوں تو موجودہ حکومت کو جمہوری طریقے سے منتخب حکومت کیسے کہا جا سکتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ جمہوری مینڈیٹ نہیں بلکہ ’چوری شدہ انتخاب‘ ہے۔How can you call this (BJP) government a democratically elected government? More than 27 lakh voters have been deleted from the voters' list.This is a stolen election, not a democratic mandate.: Congress General Secretary (Org.) Shri @kcvenugopalmp Kolkata pic.twitter.com/9EsxcXYWog— Congress (@INCIndia) July 1, 2026اسٹریٹ وینڈرز کے معاملے پر کے سی وینگوپال نے کہا کہ اگر کوئی شخص غیر قانونی طور پر کاروبار کر رہا ہو تب بھی اسے ہٹانے کے لیے ایک قانونی اور شفاف طریقۂ کار ہونا چاہیے۔ پہلے نوٹس دیا جانا چاہیے، پھر کارروائی کی وجوہات بتائی جانی چاہئیں، لیکن ایسا کچھ نہیں کیا جا رہا۔ انہوں نے کہا کہ سابق وزیر اعظم منموہن سنگھ کی حکومت نے اسٹریٹ وینڈرز کو حقوق فراہم کرنے کے لیے ملک کے بڑے پروگراموں میں سے ایک شروع کیا تھا، لیکن موجودہ حکومت ان تمام اقدامات کو ختم کر رہی ہے۔Somebody may be illegal, but they are street vendors and poor people. There should be a legitimate process to evict them. They should be given notice. After that, the reasons should be explained. Nothing like that is being done. We are very proud that the Manmohan Singh… pic.twitter.com/pWJ6PphwXx— Congress (@INCIndia) July 1, 2026ایودھیا رام مندر کے حوالے سے مبینہ چندہ خرد برد کے معاملے پر کے سی وینوگوپال نے کہا کہ برسوں تک بی جے پی اور آر ایس ایس کی سیاست ہندو۔مسلم پولرائزیشن، ایودھیا اور رام مندر کے گرد گھومتی رہی، لیکن آج جب مندر کے چندے کے غلط استعمال کے الزامات سامنے آئے ہیں تو وہ خاموش ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اگر بی جے پی خود کو ہندو دھرم کی نمائندہ پارٹی قرار دیتی ہے تو اسے ان سوالات کے جواب دینے چاہئیں اور ایودھیا مندر ٹرسٹ کے معاملے میں کھل کر اپنی وضاحت پیش کرنی چاہیے۔For years, their (BJP-RSS) politics has revolved around polarisation: Hindu versus Muslim. For 30 years, they focused on Ayodhya and the Ram Mandir.But today, when misuse of temple donations has come to light, why are they silent?If they claim to speak for Hinduism, then they… pic.twitter.com/BgXlLeuCbU— Congress (@INCIndia) July 1, 2026کانگریس لیڈر نے ملک کے تعلیمی نظام پر بھی شدید تنقید کرتے ہوئے کہا کہ امتحان کا نظام انتہائی خراب ہو چکا ہے اور اس کی ساکھ تقریباً ختم ہو گئی ہے۔ ان کے مطابق جس انداز سے امتحانات منعقد کیے جا رہے ہیں، اس سے طلبا کا مستقبل متاثر ہو رہا ہے۔ جمہوریت اور صحافت سے متعلق انہوں نے کہا کہ موجودہ حکومت جمہوریت کو مذاق بنا دینا چاہتی ہے۔ اگر جمہوریت کمزور ہو جائے تو صحافت کی بھی کوئی اہمیت باقی نہیں رہتی۔ انہوں نے کہا کہ اگر مختلف آوازوں کو دبایا جائے اور اختلاف رائے کو خاموش کر دیا جائے تو پھر صحافت کا مقصد ہی ختم ہو جاتا ہے۔ We are facing a serious issue in our education system. The way examinations are conducted in this country is pathetic. There is no credibility in the examination system in this country. These people want to make democracy a mockery. If democracy becomes a mockery, the… pic.twitter.com/EFm25QvqgE— Congress (@INCIndia) July 1, 2026پریس کانفرنس میں کانگریس جنرل سکریٹری نے اس معاملے میں بھی اپنی ناراضگی ظاہر کی کہ مرکزی تحقیقاتی ایجنسیاں، جن میں سی بی آئی، انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ (ای ڈی) اور محکمہ انکم ٹیکس شامل ہیں، اب اپوزیشن پارٹیوں کو نشانہ بنانے کے لیے بطور ہتھیار استعمال کی جا رہی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ مغربی بنگال سمیت مختلف ریاستوں میں یہ رجحان دیکھا گیا ہے کہ اپوزیشن لیڈران اچانک اپنی پارٹی چھوڑ کر نئی پارٹی بنانے کا اعلان کرتے ہیں اور پھر بی جے پی ان کے خلاف تمام الزامات کو نظر انداز کر دیتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ صورتحال ملک کی جمہوریت کے لیے نہایت تشویش ناک ہے اور کانگریس ان تمام قوتوں کے خلاف اس وقت تک جدوجہد جاری رکھے گی، جب تک ملک میں جمہوری اور آئینی اقدار پوری طرح بحال نہیں ہو جاتیں۔ وہ یہ بھی کہتے ہیں کہ جہاں کہیں بھی جمہوریت خطرے میں ہوگی، کانگریس وہاں اس کے تحفظ کے لیے موجود ہوگی۔ بی جے پی ملک کے آئینی اداروں پر قبضہ کرنے کی کوشش کر رہی ہے، لیکن تمام جمہوری قوتیں متحد ہو کر ان اداروں اور آئین کا تحفظ کریں گی۔Wherever democracy is in danger, Congress will stand there to protect it.The BJP is trying to hijack the country's constitutional institutions. We will unite to protect them and uphold the Constitution.: Congress General Secretary (Org.) Shri @kcvenugopalmp Kolkata pic.twitter.com/NOF45JoBMv— Congress (@INCIndia) July 1, 2026We have seen that whenever corrupt people join the BJP, the charges against them disappear.This is the same tactic. That is why I said that agencies like the CBI, ED, and the Income Tax Department are weaponized to target opposition parties.We have seen that this kind of… pic.twitter.com/8LVn5wsUGr— Congress (@INCIndia) July 1, 2026کے سی وینوگوپال نے میڈیا سے مخاطب ہوتے ہوئے کہا کہ ملک میں یہ رجحان بارہا دیکھا گیا ہے کہ جیسے ہی کسی بدعنوان شخص کی بی جے پی میں شمولیت ہوتی ہے، اس کے خلاف تمام مقدمات اور الزامات ختم ہو جاتے ہیں۔ تاریخ گواہ ہے کہ اس نوعیت کی آمریت کا انجام ہمیشہ افسوس ناک ہوتا ہے اور ہندوستان بھی ایک دن اس انجام کا مشاہدہ کرے گا۔Any minister who is a Member of Parliament cannot lie to Parliament.In this case, Defence Minister Rajnath Singh stated that nobody was martyred during Operation Sindoor. But, the government itself mentioned the names of six personnel.This amounts to completely misleading… pic.twitter.com/pcqnkjS2b6— Congress (@INCIndia) July 1, 2026دفاعی امور پر بات کرتے ہوئے کانگریس جنرل سکریٹری نے کہا کہ پارلیمنٹ کا رکن ہونے کے ساتھ اگر کوئی شخص وزیر بھی ہو تو اسے ایوان میں غلط بیانی کا کوئی حق نہیں۔ وزیر دفاع راجناتھ سنگھ نے پارلیمنٹ میں کہا تھا کہ ’آپریشن سندور‘ کے دوران کوئی اہلکار شہید نہیں ہوا، جبکہ حکومت نے خود بعد میں 6 اہلکاروں کے نام جاری کیے۔ یہ پارلیمنٹ کو گمراہ کرنے کے مترادف ہے۔ انہوں نے بتایا کہ اسی معاملے پر انہوں نے لوک سبھا کے اسپیکر کے سامنے وزیر دفاع راجناتھ سنگھ کے خلاف استحقاق کی خلاف ورزی (پریولیج موشن) کی تحریک پیش کی ہے۔