رام مندر نذرانہ تنازعہ: کانگریس کا چمپت رائے کے خلاف ایف آئی آر اور ایس آئی ٹی رپورٹ منظرِ عام پر لانے کا مطالبہ

Wait 5 sec.

نئی دہلی: کانگریس نے ایودھیا کے رام مندر میں نذرانے سے متعلق سامنے آئے تنازعہ پر مرکزی اور اتر پردیش حکومت کو سخت تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے مطالبہ کیا ہے کہ خصوصی تحقیقاتی ٹیم (ایس آئی ٹی) کی رپورٹ فوری طور پر عوام کے سامنے پیش کی جائے اور شری رام جنم بھومی تیرتھ کشیتر ٹرسٹ سے مستعفی ہو چکے چمپت رائے کے خلاف ایف آئی آر درج کر کے غیر جانبدارانہ کارروائی کی جائے۔ کانگریس کے سوشل میڈیا شعبے کی سربراہ سپریا شرینیت نے نئی دہلی میں پریس کانفرنس کے دوران کہا کہ شری رام جنم بھومی تیرتھ کشیتر ٹرسٹ کوئی عام ادارہ نہیں بلکہ اس کا اعلان وزیر اعظم نریندر مودی نے فروری 2020 میں کیا تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ ٹرسٹ کے ذمہ دار عہدوں پر ایسے افراد کو تعینات کیا گیا جو طویل عرصے سے راشٹریہ سویم سیوک سنگھ سے وابستہ رہے ہیں، اس لیے اس معاملے میں حکومت اپنی ذمہ داری سے الگ نہیں ہو سکتی۔سپریا شرینیت نے الزام لگایا کہ جن لوگوں کو رام مندر کی تعمیر، انتظام اور عقیدت مندوں کے نذرانوں کی حفاظت کی ذمہ داری سونپی گئی، انہی کے دور میں بے ضابطگیاں سامنے آئیں، جس سے لاکھوں عقیدت مندوں کے اعتماد کو شدید ٹھیس پہنچی۔ انہوں نے کہا کہ اگر 40 دن کے دوران 70 مرتبہ چوری کے واقعات ہوئے تو یہ سوال بھی اٹھتا ہے کہ گزشتہ ساڑھے پانچ برسوں میں مجموعی طور پر کتنی بے ضابطگیاں ہوئیں۔کانگریس نے دعویٰ کیا کہ اب تک صرف اسی لاکھ روپے کی برآمدگی کی اطلاع سامنے آئی ہے، جبکہ باقی رقم کے بارے میں کوئی واضح معلومات فراہم نہیں کی گئیں۔ پارٹی نے یہ بھی سوال اٹھایا کہ نگرانی کے کیمروں کی ریکارڈنگ کا بیک اپ کیوں محفوظ نہیں رکھا گیا، ملازمین کی بھرتی کس طریقہ کار کے تحت ہوئی، اور مبینہ نذرانہ تنازعہ سامنے آنے کے باوجود ایف آئی آر درج کرنے میں تاخیر کیوں کی گئی۔پارٹی نے مطالبہ کیا کہ اس معاملے میں صرف نچلے درجے کے ملازمین تک کارروائی محدود نہ رکھی جائے بلکہ یہ بھی معلوم کیا جائے کہ مبینہ بے ضابطگیوں کی ذمہ داری کن افراد تک پہنچتی ہے اور کیا ٹرسٹ کے اعلیٰ عہدیداروں کا بھی اس سے کوئی تعلق ہے۔ کانگریس کے مطابق چمپت رائے کے خلاف بھی قانونی کارروائی ہونی چاہیے اور پورے معاملے کی غیر جانبدارانہ جانچ کی جائے۔سپریا شرینیت نے کہا کہ اگر وزیر اعظم نریندر مودی رام مندر کی تعمیر کا سیاسی اور عوامی کریڈٹ لیتے رہے ہیں تو پھر اس معاملے میں جواب دہی بھی ان پر عائد ہوتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ وزیر اعظم کی خاموشی کئی اہم سوالات کو جنم دے رہی ہے اور انہیں عوام کے سامنے اپنی پوزیشن واضح کرنی چاہیے۔کانگریس نے مطالبہ کیا کہ ایس آئی ٹی کی مکمل رپورٹ بلا تاخیر منظر عام پر لائی جائے، شری رام جنم بھومی تیرتھ کشیتر ٹرسٹ کو تحلیل کیا جائے، چمپت رائے اور دیگر ذمہ دار افراد کے خلاف ایف آئی آر درج کی جائے، مندر میں ابتدا سے موصول ہونے والے تمام نذرانوں کا آزادانہ آڈٹ کرایا جائے اور پورے معاملے کی جانچ سپریم کورٹ کے موجودہ جج کی نگرانی میں کرائی جائے۔ پارٹی نے یہ بھی کہا کہ وزیر اعظم نریندر مودی اس معاملے پر خاموشی توڑیں اور عقیدت مندوں کے اعتماد کو ٹھیس پہنچنے پر عوام سے معافی مانگیں۔