حالات ہو رہے بہتر، پٹرول-ڈیزل پر لگی 200 لیٹر کی حد یکم جولائی سے ہو رہی ختم

Wait 5 sec.

یکم جولائی سے پٹرول اور ڈیزل کی خریداری کے اصولوں میں حکومت ایک بڑی تبدیلی کرنے جا رہی ہے۔ حکومت نے فی فرد اور فی گاڑی پٹرول اور ڈیزل کی فروخت پر عائد زیادہ سے زیادہ 200 لیٹر کی حد ختم کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ یہ نیا ضابطہ یکم جولائی سے نافذ ہو جائے گا۔ حکومت کے اس فیصلہ سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ ایندھن بحران والے حالات اب بہتر ہو رہے ہیں۔دراصل حکومت نے 12 جون کو ایک حکم نامہ جاری کرتے ہوئے ریٹیل پٹرول پمپوں سے پٹرول اور ڈیزل کی فروخت کو محدود کر دیا تھا۔ اس ضابطہ کے تحت کسی بھی ایک گاڑی کے لیے ایک دن میں پٹرول یا ڈیزل کی خریداری 200 لیٹر سے زیادہ نہیں کی جا سکتی تھی۔ اس نظام کے نافذ ہونے کے بعد بڑی گاڑیوں کے مالکان کو اپنی ضرورت کے مطابق ایندھن حاصل کرنے میں کافی دشواریوں کا سامنا کرنا پڑ رہا تھا۔حکومت نے یہ قدم اچانک نہیں اٹھایا تھا بلکہ اس کے پیچھے ایک مضبوط تجارتی وجہ تھی۔ یہ پابندی بنیادی طور پر تھوک خریداروں کو ریٹیل آؤٹ لیٹس استعمال کرنے سے روکنے کے لیے عائد کی گئی تھی۔ دراصل بڑی مقدار میں تیل خریدنے والے صارفین جب ریٹیل پمپوں کا رخ کرنے لگے تھے تو اس سے عام صارفین کے لیے ایندھن کی دستیابی متاثر ہونے کا خدشہ بڑھ گیا تھا۔ اسی صورت حال پر قابو پانے کے لیے 200 لیٹر کی حد مقرر کی گئی تھی۔اب بازار کی صورت حال کو دیکھتے ہوئے حکومت نے اس پابندی کو ختم کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ یکم جولائی سے پٹرول پمپوں پر 200 لیٹر کی یہ حد مکمل طور پر ختم کر دی جائے گی۔ اس فیصلے کے بعد صارفین اپنی ضرورت کے مطابق ایندھن خرید سکیں گے۔ حکومت کے اس قدم سے خاص طور پر ٹرانسپورٹرز اور بڑی گاڑیوں کے مالکان کو سب سے زیادہ راحت ملے گی، جنہیں طویل فاصلے طے کرنے کے لیے ایک ہی بار میں زیادہ ایندھن کی ضرورت ہوتی ہے۔