کانگریس نے دعویٰ کیا ہے کہ اس کے ایک وفد کو ایودھیا میں رام مندر جا کر بھگوان رام کے درشن کرنے سے پہلے ہی نظر بند کر دیا گیا۔ پارٹی نے اس معاملے میں اتر پردیش کی بی جے پی حکومت کو سخت تنقید کا نشانہ بنایا اور اس کی کارروائی کو عوامی جذبات کے خلاف قرار دیا۔ کانگریس نے اپنے آفیشیل ’ایکس‘ ہینڈل پر جاری ایک بیان میں کہا ہے کہ ’’آج پارٹی کا ایک وفد ایودھیا میں بھگوان رام کے درشن کرنے والا تھا، لیکن ’نذرانہ کی چوری میں ملوث بی جے پی حکومت‘ نے اتر پردیش کانگریس کے صدر اجے رائے اور وفد کے دیگر ارکان کو ہاؤس اریسٹ کر دیا۔‘‘आज कांग्रेस का प्रतिनिधिमंडल अयोध्या में प्रभु श्री राम के दर्शन करने वाला था।लेकिन.. चढ़ावा चोरी में लिप्त BJP सरकार ने यूपी कांग्रेस अध्यक्ष @kashikirai जी और प्रतिनिधिमंडल के अन्य सदस्यों को हाउस अरेस्ट कर लिया।• आख़िर इन चढ़ावा चोरों को प्रभु श्री राम के भक्तों से इतना… pic.twitter.com/WIwuzeTnPj— Congress (@INCIndia) June 30, 2026اس کارروائی سے ناراض کانگریس نے سوال اٹھایا کہ آخر ’چڑھاوا چوروں‘ کو بھگوان رام کے بھکتوں سے اتنا خوف کیوں ہے؟ کانگریس نے یہ بھی پوچھا کہ کیا اب بی جے پی اور آر ایس ایس والے یہ طے کریں گے کہ کون بھگوان رام کے درشن کرے گا اور کون نہیں؟ کانگریس نے اپنے بیان میں بی جے پی اور آر ایس ایس پر الزام عائد کرتے ہوئے کہا کہ ’’کروڑوں ہندوستانی باشندوں کے مذہبی جذبات کا سودا کرنے والے ’چڑھاوا چور‘ یہ یاد رکھیں کہ بھگوان رام کا آشیرواد ہمارے ساتھ ہے۔ تمھاری یہ حرکتیں ہمیں روک نہیں پائیں گی۔‘‘بھگوان رام کے ’آشیرواد‘ سے اقتدار میں آئی بی جے پی اب رام کے ’شراپ‘ سے ہی حکومت سے باہر ہوگی: سنجے راؤتواضح رہے کہ کانگریس کا یہ بیان اس وقت سامنے آیا ہے جب ایودھیا رام مندر میں مبینہ طور پر نذرانہ و عطیہ کی چوری کا معاملہ سرخیوں میں ہے۔ رام مندر میں بے ضابطگیوں اور مالی خرد برد سے متعلق الزامات پر سیاسی بیان بازیوں کا ایک دراز سلسلہ دیکھنے کو مل رہا ہے۔ ایک طرف ملزمین سے ایس آئی ٹی پوچھ تاچھ کر رہی ہے، اور دوسری طرف بی جے پی حکومت کو لگاتار تنقید کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔