امریکا اور ایران ایک دوسرے پر حملے روکنے پر متفق ہونے کے بعد اب مذاکرات کی ٹیبل پر بیٹھیں گے

Wait 5 sec.

واشنگٹن(30 جون 2026): امریکا اور ایران ایک دوسرے پر حملے روکنے پر متفق ہونے کے بعد اب مذاکرات کی میز پر بیٹھنے کے لیے تیار ہیں، تاہم ملاقات کی نوعیت کے حوالے سے دونوں ممالک کے بیانات میں تضاد پایا جا رہا ہے۔برطانوی نشریاتی ادارے (بی بی سی) اور امریکی نیوز ویب سائٹ ‘ایگزیوس’ کے مطابق ایران کے ساتھ ان تکنیکی مذاکرات میں امریکا کی جانب سے اسٹیو وٹکوف اور جارڈ کشنر نمائندگی کریں گے، جبکہ تکنیکی وفود بدھ کو علیحدہ علیحدہ مذاکرات کریں گے۔ اس پورے عمل میں قطر اور پاکستان ثالث کا کردار ادا کر رہے ہیں۔اس کے علاوہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دعویٰ کیا ہے کہ آج دوحہ میں ایران کے وفد سے مذاکرات ہوں گے، جس کے لیے ایران نے خود درخواست کی ہے۔دوسری جانب ایران نے امریکی ٹیم سے براہِ راست ملاقات کی سختی سے تردید کی ہے۔ ایرانی نائب وزیرِ خارجہ کاظم غریب آبادی کا کہنا ہے کہ امریکا سے براہِ راست بات چیت کا کوئی منصوبہ نہیں ہے اور قطر کے ساتھ صرف معمول کی مشاورت جاری ہے۔انہوں نے واضح کیا کہ امریکا کے ساتھ سفارتی امور اور مشاورت کا سلسلہ صرف ثالث ملکوں کے ذریعے ہی چل رہا ہے، اور تاریخ و مقام طے ہونے کے بعد تکنیکی مذاکرات مناسب وقت پر ہوں گے۔اسی دوران عمان میں امریکا کے سابق سفیر رچرڈ شرمِر نے انکشاف کیا ہے کہ حالیہ شدید کشیدگی کے بعد بھی پاکستان کی کامیاب ثالثی کی وجہ سے ہی واشنگٹن اور تہران دوبارہ مذاکرات پر آمادہ ہوئے ہیں۔انہوں نے مزید کہا کہ دونوں ممالک کے درمیان تازہ جھڑپیں اور حملے بند کرانے میں بھی پاکستان نے کلیدی کردار ادا کیا ہے۔