تہران (02 جولائی 2026): ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر باقر قالیباف نے کہا ہے کہ اگر وہ سوئٹزرلینڈ مذاکرات میں شریک نہ ہوتے تو بعض لوگ معاہدے کی شرائط پر سوال اٹھاتے۔ایک بیان میں باقر قالیباف نے کہا کہ اگر بعض شرائط پوری نہ ہوتیں تو ان سے پوچھا جاتا کہ معاہدے کا کیا ہوا۔ انھوں نے کہا کہ ٹرمپ کی باتیں دہرانے کے بجائے قومی مفاد کو مدنظر رکھا جانا چاہیے۔انھوں نے بتایا کہ ایران کے 6 ارب ڈالر قطر میں منجمد تھے، اس کے علاوہ مزید 6 ارب ڈالر کی ذمہ داری بھی قبول کی گئی۔ ان کے مطابق امریکی محکمہ خزانہ کے دفتر برائے غیر ملکی اثاثہ جات کنٹرول (اوفک) کی منظوری پر امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے دستخط کیے تاکہ منجمد رقوم جاری کی جا سکیں۔باقر قالیباف نے کہا کہ زیورخ مذاکرات کے نتیجے میں ایران کے منجمد اثاثوں کی رہائی کے عمل میں تیزی آئی جب کہ پابندیوں کی معطلی بھی ان مذاکرات کا ایک اہم نتیجہ رہی۔امریکا ایران مذاکرات کا اگلا دور کب ہوگا؟انھوں نے کہا کہ رہبرِ انقلاب نے مفاہمت کی شرائط کے عملی نفاذ کا انتظار کرنے کی ہدایت کی تھی اور انہی ہدایات کے مطابق شرائط پر عمل کیا گیا۔ ایرانی اسپیکر نے کہا کہ ہمارا دشمن صرف طاقت کی زبان سمجھتا ہے، اس لیے اسی زبان میں جواب دینا ہوگا۔انھوں نے آئی اے ای اے کے معائنہ کاروں کی بمباری سے متاثرہ مقامات تک رسائی سے متعلق خبروں کو جھوٹ قرار دیتے ہوئے کہا کہ وہ جلد چین کا دورہ کریں گے تاکہ دونوں ممالک کے تعلقات کو حقیقی اسٹریٹجک شراکت داری میں تبدیل کیا جا سکے۔