دوحہ (02 جولائی 2026): اسلام آباد مفاہمتی یادداشت سے متعلق امور پر امریکا ایران مذاکرات میں یہ پیش رفت ہوئی ہے کہ امریکا اور ایران نے مذاکرات جاری رکھنے پر اتفاق کیا ہے۔ترجمان قطری وزارت خارجہ ڈاکٹر ماجد نے ٹویٹ میں بتایا کہ پاکستان اور قطر کی ثالثی میں امریکی اور ایرانی وفود نے الگ الگ ملاقاتیں کیں۔ مذاکرات لیک لوسرن اجلاس میں پیش رفت کی بنیاد پر آگے بڑھائے گئے۔انھوں نے کہا کہ اگلا مذاکراتی اجلاس ایرانی سپریم لیڈر علی خامنہ ای کی تدفین کے بعد ہوگا، جنھیں 9 جولائی کو سپرد خاک کیا جانا ہے۔ مذاکرات کا مقصد باہمی امور پر پیش رفت اور سفارتی رابطوں کو مستحکم بنانا ہے۔ادھر روئٹرز نے رپورٹ کیا ہے کہ ایران اور امریکا کے درمیان بدھ کے روز ہونے والے بالواسطہ مذاکرات کا ایک اور دور کسی مستقل پیش رفت کے بغیر اختتام پذیر ہو گیا، جہاں فریقین نے زیادہ تر ان معاملات پر توجہ مرکوز رکھی جنھیں دو ہفتے قبل عبوری معاہدے کے اعلان کے وقت طے شدہ قرار دیا گیا تھا۔ٹرمپ کے خاندان نے کرپٹو کرنسی سے 1.4 ارب ڈالر کما لیےمذاکرات سے آگاہ ذرائع کے مطابق دونوں ممالک کے مذاکرات کاروں نے دوحہ میں دو روز تک آبنائے ہرمز میں بحری آمدورفت اور ایران کے منجمد فنڈز کی بحالی پر بات چیت کی، جو ابتدائی معاہدے کے دو اہم نکات تھے۔وزارت خارجہ کے ترجمان نے ایکس پر جاری بیان میں کہا کہ دوحہ مذاکرات میں جون میں جنگ بندی پر مبنی مفاہمتی یادداشت سے متعلق معاملات میں ’’مثبت پیش رفت‘‘ ہوئی ہے اور یہ سوئٹزرلینڈ میں ہونے والے سربراہی اجلاس کے نتائج کو آگے بڑھانے کا تسلسل ہے۔تاہم، دوسری طرف ایران کے نائب وزیر خارجہ کاظم غریب آبادی نے امریکا سے مذاکرات کے بارے میں افواہیں مسترد کرتے ہوئے کہا کہ دوحہ میں امریکی وفد سے کوئی ملاقات نہیں ہوئی، ایرانی میڈیا کے مطابق کاظم غریب آبادی نے کہا ملاقاتیں صرف قطر اور پاکستان کے نمائندوں سے ہوئیں۔ انھوں نے کہا ان ملاقاتوں کا مقصد امریکا سے طے پانے والے معاہدے پر عمل درآمد کو آگے بڑھانا تھا، خاص طور پر لبنان کی صورت حال اور ایران کے منجمد اثاثوں کی بحالی کے معاملات پر بات چیت ہوئی۔